Bharat Express DD Free Dish

Gen Z Protest

مولانا محمد رحمانی مدنی نے کہا کہ بڑے افراد پربچوں کو مقدم کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا، بچوں سے اذیت اور تکلیف کو دور کرنا وغیرہ بھی آپ کی سیرت مطہرہ کا اہم گوشہ ہے اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے وقت بچوں کو باہر کھیلنے سے روکتے تھے کیوں کہ یہ شیاطین کے گھومنے کا وقت ہوتا ہے اور بچوں سے کھیل کود اورہنسی مذاق کا خاص اہتمام فرماتے تھے یہاں تک کہ نمازکی حالت میں بھی آپ کے نواسے حسن وحسین اور نواسی امامہ اور دیگربچوں اور بچیوں کو گود میں اُٹھالیتے اورکندھے پربٹھا کرخطبہ دیتے۔ نیزبچے سجدہ کی حالت میں آپ کی پیٹھ پربیٹھتے توسجدہ لمبا کردیتے وغیرہ یہ سب سیرت مبارکہ کے وہ بنیادی پہلوہیں، جونئی نسل کی تربیت کے اہم گوشے ہیں۔

دیوبا 25 فروری کو اپنی اہلیہ اور سابق وزیر ارزو رانا دیوبا کے ہمراہ علاج کے لیے سنگاپور گئے تھے۔ جمعرات کو وہ اکیلے نیپال واپس لوٹے۔ کھٹمنڈو کے تریبھون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا میوزیکل بینڈ اور ثقافتی پروگراموں کے ساتھ شاندار استقبال کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پرتشدد احتجاج ایران کے تقریباً 21 صوبوں تک پھیل چکا ہے اور 2022 کے بعد اسے ملک کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ سنگین معاشی بحران ہے۔ کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی، روزگار کے مواقع کی کمی اور بڑھتی مہنگائی نے عوام میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔

بارا کے ضلعی انتظامیہ دفتر نے ایک نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ سیکورٹی اہلکار کرفیو کے دوران ضروری سروس گاڑیوں، ایمبولینس، فائر بریگیڈ گاڑیوں، جنازہ گاڑیوں، صحت کے کارکنوں کی گاڑیوں، میڈیا اہلکاروں، سیاحوں کی گاڑیوں، انسانی حقوق اور سفارتی مشنز کی گاڑیوں اور ہوائی ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کی آمد و رفت کی سہولت فراہم کریں گے۔

نیپال میں جاری جنریشن زی کے احتجاجی مظاہروں کے مدنظر بھارت کو اپنے شہریوں کی سلامتی کی فکر لاحق ہے، کیونکہ ان پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے مظاہرین پر طاقت کے مبینہ غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

کٹھمنڈو، جھاپا، پوکھرا، بٹول، چتون، نیپال گنج اور بیراٹ نگر سمیت کئی شہروں میں نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ جھاپا میں مظاہرین نے وزیراعظم کے پی شرما اولی کا پتلا نذرِ آتش کیا اور میونسپل دفتر کے گیٹ توڑنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔