بھارت کے پڑوسی ملک نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے معاملے پر ملک بھر میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی ہے۔ نیپالی نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومت کے خلاف جارحانہ انداز میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر بھارت نے منگل (9 ستمبر 2025) کو نیپال میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔
نیپال میں جاری جنریشن زی کے احتجاجی مظاہروں کے مدنظر بھارت کو اپنے شہریوں کی سلامتی کی فکر لاحق ہے، کیونکہ ان پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ایڈوائزری میں نئی دہلی نے نیپال میں مقیم بھارتی شہریوں سے احتیاط برتنے اور مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
وزارت خارجہ کے سرکاری بیان میں کیا کہا گیا؟
وزارت خارجہ (MEA) نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ وہ گزشتہ روز سے نیپال کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور نوجوانوں کے مظاہروں پر بھی فکر مند ہے۔ بیان میں کہا گیا:
“ہم کل سے نیپال میں ہونے والی پیش رفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کئی نوجوانوں کی ہلاکت پر گہرے رنج میں مبتلا ہیں۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں جاں بحق افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہیں، اور ہم زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں بڑا سڑک حادثہ، 11 مسافر ہلاک، ایک ہی خاندان سے ہے 7 کا تعلق
نیپال کے کئی شہروں میں کرفیو نافذ
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں اس بات کا بھی علم ہے کہ نیپالی حکام نے کھٹمنڈو اور نیپال کے کئی دیگر شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ نیپال میں مقیم بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور نیپالی حکام کی جانب سے جاری کردہ اقدامات اور ہدایات پر عمل کریں۔
نیپال کے وزیر داخلہ رمیش لیکھک نے وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقدہ کابینہ اجلاس کے دوران اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ دوسری طرف مظاہرہ کرنے والے نوجوان وزیراعظم کے پی شرما اولی کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


