جبل پور: مدھیہ پردیش کے جبل پور میں ایک پروگرام کے دوران جگدگرو شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے ملک میں جاری ’جین-زی‘ نوجوانوں کی تحریک پر حکومت کو اپنی رائے دی۔
’جین-زی کی سادگی اور معصومیت نے بڑے سیاسی کام کر دکھائے‘
شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے کہا کہ ملک میں اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ موجودہ حکومت میں کسی وزیر یا بڑے لیڈر سے استعفیٰ لینا آسان نہیں ہے، لیکن جین-زی کی سادگی اور معصومیت نے ایسی صورتحال پیدا کردی کہ وزرا کو بھی استعفیٰ دینا پڑا۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو لوگ خود کو سیاست کا چانکیہ سمجھتے ہیں، انہیں صاف دل رکھنے والے نوجوانوں سے ٹکرانے کے بجائے ان کی بات سننی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کسی چھوٹے بچے کو کانٹا چبھنے پر وہ اپنی تکلیف ظاہر کرنے کے لیے روتا ہے، اسی طرح آج کا نوجوان بھی اپنی پریشانی اور تکلیف کا اظہار کر رہا ہے۔ اس لیے حکومت کو وقت رہتے ان کی جائز مانگیں تسلیم کرلینی چاہئیں۔
’تحریک کو دبایا گیا تو جے پی تحریک جیسی صورتحال بن سکتی ہے‘
سوامی اویمکتیشورانند نے تاریخی جے پی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جین-زی کی موجودہ تحریک کو دبانے یا طویل عرصے تک جاری رکھنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں ملک میں ایک نئی سیاسی نسل تیار ہوسکتی ہے۔انہوں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین کی سیاست اور سرگرمیوں کے محدود ہونے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، اس کی وجہ سے نئی سیاسی صلاحیتوں کو آگے آنے کے مواقع کم ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جین-زی کی یہ تحریک جاری رہی تو اس سے مستقبل میں کئی نئے سیاسی لیڈر سامنے آسکتے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کو فوری ہٹانے کا مطالبہ
نوجوانوں کے مسائل کے علاوہ شنکراچاریہ نے ملک کے جمہوری اداروں، خاص طور پر الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے انتخابی عمل سے متعلق پیدا ہونے والی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ شنکراچاریہ اویمکتیشورانند نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر انتخابی کمشنروں کے درمیان اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے انتخابی کمشنروں کی تقرری کے عمل کو مزید جمہوری اور شفاف بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



