پٹنہ: بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں پیر کو ایک بار پھر مختلف مطالبات کے سلسلے میں احتجاج شروع ہوگیا۔ گاندھی میدان سے نکلا مارچ دیکھتے ہی دیکھتے پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراؤ میں بدل گیا۔ مظاہرین نے جے پی گولمبر کے قریب بیریکیڈ توڑ دیے اور ڈاک بنگلہ چوراہے تک پہنچ گئے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔
بیریکیڈ ٹوٹنے کے بعد بڑھی کشیدگی
مختلف بائیں بازو کی جماعتوں اور عوامی تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے سمیت متعدد مطالبات سے متعلق راج بھون مارچ کا اعلان کیا تھا۔ گاندھی میدان سے نکلا مظاہرین کا قافلہ جب آگے بڑھا تو پولیس نے جے پی گولمبر کے قریب بیریکیڈ لگا کر انہیں روکنے کی کوشش کی، لیکن مظاہرین آگے بڑھنے پر بضد رہے اور کچھ افراد نے بیریکیڈ توڑ دیے۔
اس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکم پیل شروع ہوگئی۔ موقع پر پولیس کے کئی سینئر افسران موجود رہے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔
ڈاک بنگلہ چوراہا بنا احتجاج کا مرکز
سب سے زیادہ کشیدگی ڈاک بنگلہ چوراہے پر دیکھی گئی، جہاں مظاہرین آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ پولیس انہیں روکنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ صورتحال بگڑنے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔پانی کی تیز بوچھاروں کے باوجود کئی مظاہرین بیریکیڈ کے قریب موجود رہے اور نعرے بازی کرتے رہے۔ پولیس نے بعد میں متعدد خواتین اور مرد مظاہرین کو حراست میں لے کر وہاں سے ہٹایا۔
کن مطالبات کے سلسلے میں نکلا مارچ؟
احتجاج میں خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر سے متعلق سوالات، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ، کسانوں کی زمین کے حصول کی مخالفت، سیلاب اور خشک سالی سے متعلق مسائل، بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل شامل تھے۔ مارچ میں طلبہ، کسانوں، مزدوروں اور مختلف بائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے حکومت اور انتخابی عمل سے متعلق مختلف مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ دوسری جانب پولیس نے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے متعدد مقامات پر سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔
واٹر کینن کے باوجود جاری رہی نعرے بازی
واٹر کینن کے استعمال کے باوجود کئی مظاہرین پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے۔ بعض مظاہرین بیریکیڈ کے قریب کھڑے ہوکر نعرے لگاتے رہے۔ ڈاک بنگلہ چوراہے اور آس پاس کے علاقوں میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات رہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی گئی۔پٹنہ میں پیر کو مختلف تنظیموں کے الگ الگ احتجاج بھی ہوئے، جس کے باعث شہر کے کئی اہم علاقوں میں پولیس کی بھاری تعیناتی رہی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



