نیپال کے سابق وزیر اعظم اور نیپالی کانگریس کے صدر شیربہادر دیوبا جمعرات کو تقریباً چھ ماہ بیرون ملک طبی علاج کے بعد کھٹمنڈو واپس پہنچ گئے۔ 80 سالہ دیوبا کو گزشتہ سال ستمبر میں جِن زی احتجاج کے دوران ان کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے والی بھیڑ نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس میں وہ اور ان کی اہلیہ ارزو رانا دیوبا زخمی ہوئے تھے۔ دیوبا 25 فروری کو اپنی اہلیہ اور سابق وزیر ارزو رانا دیوبا کے ہمراہ علاج کے لیے سنگاپور گئے تھے۔ جمعرات کو وہ اکیلے نیپال واپس لوٹے۔ کھٹمنڈو کے تریبھون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا میوزیکل بینڈ اور ثقافتی پروگراموں کے ساتھ شاندار استقبال کیا گیا۔
ہزاروں کارکنوں نے کیا استقبال، پارٹی کے اندر قیادت کا تنازع
نیپالی کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ بملندر نِدھی نے بتایا کہ ملک بھر سے پارٹی کارکن دیوبا کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے پر جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دیوبا اور ان کی اہلیہ گزشتہ احتجاج میں شدید زخمی ہوئے تھے اور اسی کے بعد علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے۔ دیوبا کی وطن واپسی کے اگلے ہی روز نیپالی کانگریس کے غیر اسٹیبلشمنٹ دھڑے کا قومی اجتماع بھی منعقد ہونے والا ہے، جس سے سابق وزیر اعظم خطاب کریں گے۔ دیوبا کی واپسی ایسے وقت ہوئی ہے جب نیپالی کانگریس میں قیادت اور تنظیم نو کے معاملے پر اندرونی اختلافات جاری ہیں۔ پارٹی کی قیادت سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے۔ 17 اپریل کو عدالت نے گگن تھاپا دھڑے کو نیپالی کانگریس کا باضابطہ دھڑا تسلیم کیا تھا، تاہم اگست کے پہلے ہفتے میں سپریم کورٹ نے نظرثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ تین رکنی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے بھیج دیا۔ نئی سماعت کا فیصلہ پارٹی کی باضابطہ حیثیت کا تعین کرے گا۔
نوجوان نسل کو قیادت میں موقع دینے کی حمایت
کھٹمنڈو پہنچنے کے بعد جاری بیان میں شیربہادر دیوبا نے قومی اور سیاسی اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے ہوئی ہے۔ انہوں نے ماضی کی تقسیم اور دشمنی سے پیدا ہونے والے زخموں کو مندمل کرنے اور انتقام کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔ دیوبا نے کہا کہ نیپالی کانگریس نے نوجوان نسل کی جانب سے مطلوبہ تبدیلی کو قبول کیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ گزشتہ نسلوں کی جدوجہد، قربانیوں اور خدمات کو غلط قرار دیا جائے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو قیادت میں زیادہ مواقع دینے کی حمایت کی، ساتھ ہی کہا کہ تجربہ کار نسل کو محض عمر کی بنیاد پر مسئلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ ان کے مطابق اپنے طویل سیاسی تجربے کو نوجوان نسل کے ساتھ بانٹنا ان کی ذمہ داری ہے۔
منی لانڈرنگ کیس میں بھی تحقیقات جاری
سابق وزیر اعظم شیربہادر دیوبا کے خلاف منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں بھی تحقیقات جاری ہیں، جو ان کے اور ان کی اہلیہ کے بیرون ملک روانہ ہونے سے قبل نومبر میں شروع ہوئی تھی۔ محکمہ انسداد منی لانڈرنگ نے بعد میں دیوبا جوڑے، ان کے بیٹے جے بیر سنگھ دیوبا اور بعض رشتہ داروں کے نام پر درج منقولہ و غیر منقولہ اثاثے منجمد کر دیے تھے۔ یہ حکم اب بھی نافذ ہے۔ نیپال حکومت نے محکمہ انسداد منی لانڈرنگ کی درخواست پر جوڑے کے خلاف گرفتاری وارنٹ بھی جاری کیے تھے اور انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم انٹرپول نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے 25 مئی کو گرفتاری وارنٹ منسوخ کر دیا۔
’’میری زندگی ایک کھلی کتاب ہے‘‘
دیوبا نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے پوری سیاسی زندگی میں ملک، جمہوریت، شہریوں، آئین اور قانون کو ہر چیز پر مقدم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے اور وہ آئندہ بھی قومی مفاد، جمہوریت، آئین، قانون اور اصولوں کے مطابق کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقتدار کے خواہش مند رہنما کی حیثیت سے نہیں بلکہ ملک کے ایک شہری کی حیثیت سے واپس آئے ہیں، جو عاجزی، لگن اور محبت کے ساتھ عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہے۔ دیوبا نے نیپال میں تمام سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع البنیاد قومی اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا اور نیپالی کانگریس سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاقِ رائے اور تعاون کے ذریعے ملک میں جمہوریت اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


