Bharat Express DD Free Dish

Nepal Protests

دیوبا 25 فروری کو اپنی اہلیہ اور سابق وزیر ارزو رانا دیوبا کے ہمراہ علاج کے لیے سنگاپور گئے تھے۔ جمعرات کو وہ اکیلے نیپال واپس لوٹے۔ کھٹمنڈو کے تریبھون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا میوزیکل بینڈ اور ثقافتی پروگراموں کے ساتھ شاندار استقبال کیا گیا۔

نیپال میں آئندہ عام انتخابات سے پہلے ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور فرقہ وارانہ تشدد نے ملک کے امن و امان کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مارچ 2026 میں ہونے والے انتخابات سے محض چند ہفتے قبل بھارتی سرحد سے متصل علاقوں میں بھڑک اٹھنے والے فسادات نے نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ خطے کی سلامتی سے وابستہ اداروں کو بھی چوکنا کر دیا ہے۔

نیپال میں ستمبر کے مہینے میں ہوئے ’جین زی‘ ہنگاموں کے دوران سرکاری اداروں، عمارتوں اور جیلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیپال کی مختلف جیلوں میں قید ہزاروں قیدی فرار ہو گئے، جن میں سے اب بھی 4,552 سے زائد قیدی لاپتہ ہیں اور حکومت کو ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

سیکورٹی ایجنسیاں اب چوراہوں اور حساس علاقوں میں تعینات ہیں۔ دارالحکومت سے لے کر سرحدی علاقوں تک نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حالات پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس طرح کی صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ارباب اقتدار عوام کی آواز کو ہمدردی اور ذمہ داری کے ساتھ سننے کے بجائے، ان کو آمرانہ طریقوں اور میڈیا کنٹرول کے ذریعے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

نیپالی فوج نے ملک گیر کرفیو اور پابندی کے احکامات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ احتجاج کا آغاز 8 ستمبر کو کٹھمنڈو سمیت پوکھرا، بٹول اور بیرگنج جیسے بڑے شہروں میں ہوا، جب حکومت نے ٹیکس اور سائبر سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سمیت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگا دی تھی۔

چار ستمبر کو نافذ کی گئی اس پابندی کے تحت وہ پلیٹ فارمز بند کر دیے گئے جو نیپالی حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جعلی شناخت کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر، جھوٹی خبریں اور فراڈ پھیلایا جا رہا تھا۔

نیپال میں حالیہ مظاہرے اس وقت شدت اختیار کر گئے جب ہزاروں نوجوانوں نے پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔

کٹھمنڈو، جھاپا، پوکھرا، بٹول، چتون، نیپال گنج اور بیراٹ نگر سمیت کئی شہروں میں نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ جھاپا میں مظاہرین نے وزیراعظم کے پی شرما اولی کا پتلا نذرِ آتش کیا اور میونسپل دفتر کے گیٹ توڑنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔