Bharat Express DD Free Dish

Nepal protests turn violent: نیپال میں سوشل میڈیا پابندی کے خلاف احتجاج میں آئی شدت، 18 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی، مظاہرے ملک بھر میں پھیل گئے، کرفیو نافذ، پارلیمنٹ کے باہر شدید جھڑپیں

چار ستمبر کو نافذ کی گئی اس پابندی کے تحت وہ پلیٹ فارمز بند کر دیے گئے جو نیپالی حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جعلی شناخت کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر، جھوٹی خبریں اور فراڈ پھیلایا جا رہا تھا۔

نیپال میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پابندی کے خلاف جاری احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 18 ہوگئی، جب کہ 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ دی ہمالین ٹائمز کے مطابق 16 ہلاکتیں کٹھمنڈو وادی میں اور 2 اٹہری میں ہوئیں۔ مختلف اسپتالوں میں اموات اس طرح رپورٹ ہوئیں: سات ٹراما سینٹر میں، تین ایورسٹ اسپتال میں، تین سول اسپتال میں، دو کٹھمنڈو میڈیکل کالج میں اور ایک تری بھون یونیورسٹی ٹیچنگ اسپتال میں۔

اسپتالوں پر دباؤ اور کرفیو کے احکامات

زخمیوں میں مظاہرین، سکیورٹی اہلکار اور صحافی شامل ہیں اور اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے باعث کئی مریضوں کو دیگر مراکز منتقل کیا جا رہا ہے۔ وزارت صحت نے ہدایت دی ہے کہ تمام زخمی مظاہرین کا علاج مفت کیا جائے۔ حکومت نے صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا۔

کرفیو کے مقامات اور مظاہروں کا پھیلاؤ

کٹھمنڈو وادی میں نیو بنیشور سمیت اہم مقامات پر کرفیو لگا دیا گیا۔ پوکھرا میں وزیراعلیٰ کے دفتر پر حملے کے بعد سہ پہر 2 بجے سے شاہد چوک اور اطراف میں کرفیو نافذ کیا گیا۔ اٹہری میں شام 3:30 بجے سے غیر معینہ مدت تک کرفیو ہے، جب کہ بٹول-بھیرہوا میں شام 4 بجے سے رات 10 بجے تک پابندیاں رہیں۔ مظاہرے براٹ نگر، چتون، جھاپا اور روپندیہی سمیت کئی شہروں میں پھیل گئے۔

پرامن احتجاج کا پرتشدد رخ

پیر کو پارلیمنٹ کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاج اس وقت پرتشدد ہوگیا جب پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں شروع ہوئیں۔ ایک مظاہرہ کرنے والے نے بتایا کہ وہ پُرامن مارچ کر رہے تھے لیکن پولیس نے گولیاں چلائیں، جس سے ان کے ساتھی زخمی ہوگئے۔ ایک اور عینی شاہد نے الزام لگایا کہ پولیس نے گھٹنوں سے اوپر نشانہ بنایا اور فائرنگ پارلیمنٹ کے اندر سے بھی سنائی دے رہی تھی۔

سوشل میڈیا پابندی کا پس منظر

چار ستمبر کو نافذ کی گئی اس پابندی کے تحت وہ پلیٹ فارمز بند کر دیے گئے جو نیپالی حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جعلی شناخت کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر، جھوٹی خبریں اور فراڈ پھیلایا جا رہا تھا۔

تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات

مقامی میڈیا کے مطابق دمک چوک سے مظاہرین نے میونسپل دفتر تک مارچ کیا، وزیراعظم کے پی شرما اولی کا پتلا جلایا اور میونسپل گیٹس توڑنے کی کوشش کی۔ پولیس نے ربڑ کی گولیوں سے جواب دیا، جس میں ایک شخص شدید زخمی ہوا۔ مظاہرین نے موٹر سائیکلیں جلائیں، درختوں کی شاخیں اور پانی کی بوتلیں پھینکیں اور بدعنوانی کے خلاف نعرے لگائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read