Ban on Social Media: برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر کا اہم فیصلہ، ذہنی صحت کی خاطر 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی
برطانیہ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔ فرانس 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ اسپین اور ڈنمارک بھی ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
Malaysia Bans Social Media Accounts For Children: ملائیشیا کا بڑا فیصلہ، 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی عائد
کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ یا جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دور رکھنا نہیں ہے۔ اس اقدام کا اصل مقصد آن لائن تحفظ کو بہتر بنانا اور سوشل میڈیا کمپنیوں، والدین اور سرپرستوں کی مشترکہ ذمہ داری کو واضح کرنا ہے تاکہ کم عمر صارفین ایک محفوظ اور صحت مند ڈیجیٹل ماحول میں انٹرنیٹ استعمال کر سکیں۔
India AI Impact Summit 2026: فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کی بھارت کی تعریف، بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی اپیل
سمٹ کے دوران صدر میکرون نے وزیر اعظم مودی سے ایک اہم اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے اور امید ظاہر کی کہ بھارت بھی اسی سمت میں پیش رفت کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمر بچوں کے تحفظ اور ذہنی صحت کے پیش نظر اس طرح کے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔
Malaysia To Ban Social Media For Children : اب 16 سال سے کم عمر کے بچے سوشل میڈیا کا نہیں کر سکیں گے استعمال، بچوں کی حفاظت کے لیے اٹھایا گیا تاریخی قدم
ملیشیا کی حکومت نے بچوں کو سائبر ہراسانی، آن لائن فراڈ اور جنسی استحصال جیسے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
Curfew extended after Gen Z-led protests: نیپال میں حالات بدتر، جنریشن-زیڈ کی قیادت میں پرتشدد مظاہرے، 27 افراد گرفتار، کرفیو میں توسیع، فوج نے سنبھالی کمان
نیپالی فوج نے ملک گیر کرفیو اور پابندی کے احکامات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ احتجاج کا آغاز 8 ستمبر کو کٹھمنڈو سمیت پوکھرا، بٹول اور بیرگنج جیسے بڑے شہروں میں ہوا، جب حکومت نے ٹیکس اور سائبر سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سمیت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگا دی تھی۔
Nepal Lifts Social Media Ban: نیپال حکومت نے سوشل میڈیا پر عائد پابندی ہٹائی، وزیر اعظم اولی نہیں ہوں گے مستعفی، جانیے کسے ٹھہرایا مظاہرین کی اموات کا ذمہ دار
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے مظاہرین پر طاقت کے مبینہ غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
Nepal protests turn violent: نیپال میں سوشل میڈیا پابندی کے خلاف احتجاج میں آئی شدت، 18 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی، مظاہرے ملک بھر میں پھیل گئے، کرفیو نافذ، پارلیمنٹ کے باہر شدید جھڑپیں
چار ستمبر کو نافذ کی گئی اس پابندی کے تحت وہ پلیٹ فارمز بند کر دیے گئے جو نیپالی حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جعلی شناخت کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر، جھوٹی خبریں اور فراڈ پھیلایا جا رہا تھا۔
Death toll rises to 14 in Gen Z protests in Kathmandu: کٹھمنڈو میں ’جنریشن زی‘ مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوئی، سوشل میڈیا پابندی اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج میں صورتحال کشیدہ، فوج طلب
کٹھمنڈو، جھاپا، پوکھرا، بٹول، چتون، نیپال گنج اور بیراٹ نگر سمیت کئی شہروں میں نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ جھاپا میں مظاہرین نے وزیراعظم کے پی شرما اولی کا پتلا نذرِ آتش کیا اور میونسپل دفتر کے گیٹ توڑنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔
Nine dead, curfew imposed in parts of Nepal: سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف پرتشدد مظاہرے، نیپال میں ’جنریشن زی‘ احتجاج پر پولیس نے کیا طاقت کا استعمال، 9 افراد ہلاک، کرفیو نافذ
مظاہرین نے صبح 9 بجے کٹھمنڈو سے مارچ شروع کیا۔ ’ہامی نیپال‘ نامی تنظیم نے یہ ریلی منظم کی تھی، جس نے پیشگی اجازت حاصل کی تھی۔ سوشل میڈیا پر احتجاج کے راستوں اور حفاظتی ہدایات کا اشتراک کیا جا رہا تھا۔ طلبہ کو یونیفارم میں کتابیں لے کر شامل ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔





