Bharat Express DD Free Dish

Social Media Ban

برطانیہ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔ فرانس 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ اسپین اور ڈنمارک بھی ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ یا جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دور رکھنا نہیں ہے۔ اس اقدام کا اصل مقصد آن لائن تحفظ کو بہتر بنانا اور سوشل میڈیا کمپنیوں، والدین اور سرپرستوں کی مشترکہ ذمہ داری کو واضح کرنا ہے تاکہ کم عمر صارفین ایک محفوظ اور صحت مند ڈیجیٹل ماحول میں انٹرنیٹ استعمال کر سکیں۔

سمٹ کے دوران صدر میکرون نے وزیر اعظم مودی سے ایک اہم اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے اور امید ظاہر کی کہ بھارت بھی اسی سمت میں پیش رفت کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمر بچوں کے تحفظ اور ذہنی صحت کے پیش نظر اس طرح کے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔

ملیشیا کی حکومت نے بچوں کو سائبر ہراسانی، آن لائن فراڈ اور جنسی استحصال جیسے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

نیپالی فوج نے ملک گیر کرفیو اور پابندی کے احکامات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ احتجاج کا آغاز 8 ستمبر کو کٹھمنڈو سمیت پوکھرا، بٹول اور بیرگنج جیسے بڑے شہروں میں ہوا، جب حکومت نے ٹیکس اور سائبر سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سمیت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگا دی تھی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے مظاہرین پر طاقت کے مبینہ غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

چار ستمبر کو نافذ کی گئی اس پابندی کے تحت وہ پلیٹ فارمز بند کر دیے گئے جو نیپالی حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جعلی شناخت کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر، جھوٹی خبریں اور فراڈ پھیلایا جا رہا تھا۔

کٹھمنڈو، جھاپا، پوکھرا، بٹول، چتون، نیپال گنج اور بیراٹ نگر سمیت کئی شہروں میں نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ جھاپا میں مظاہرین نے وزیراعظم کے پی شرما اولی کا پتلا نذرِ آتش کیا اور میونسپل دفتر کے گیٹ توڑنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔

مظاہرین نے صبح 9 بجے کٹھمنڈو سے مارچ شروع کیا۔ ’ہامی نیپال‘ نامی تنظیم نے یہ ریلی منظم کی تھی، جس نے پیشگی اجازت حاصل کی تھی۔ سوشل میڈیا پر احتجاج کے راستوں اور حفاظتی ہدایات کا اشتراک کیا جا رہا تھا۔ طلبہ کو یونیفارم میں کتابیں لے کر شامل ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔