کٹھمنڈو: نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف نوجوانوں کے وسیع احتجاج نے پیر کے روز پرتشدد شکل اختیار کر لی، جس میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ کٹھمنڈو اور دیگر شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی۔
🚨Nepal: Massive Protests break out in Kathmandu over corruption, social media ban; curfew imposed#Nepal #Protests #Kathmandu #Corruption #SocialMediaBan #Curfew pic.twitter.com/iqc8Ulexmb
— TheWarPolitics 🇮🇳 (@TheWarPolitics0) September 8, 2025
سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کے بعد عوامی غصہ
نیپال حکومت نے حال ہی میں فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب اور اسنیپ چیٹ سمیت 26 غیر رجسٹرڈ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں غصہ پھیل گیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکومت بدعنوانی میں ملوث ہے اور اظہار رائے کی آزادی کو کچل رہی ہے۔
کرفیو کے سخت احکامات
کٹھمنڈو ضلعی انتظامیہ نے بنیشور اور حساس سرکاری علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا، جن میں صدر کی رہائش گاہ شِیتل نیواس، وزیراعظم کی رہائش گاہ بلواتار، نائب صدر کی رہائش، سنگھ دربار کے اطراف شامل ہیں۔ یہ کرفیو دوپہر 12:30 بجے سے رات 10 بجے تک نافذ رہے گا، جس دوران نقل و حرکت، اجتماعات اور مظاہروں پر مکمل پابندی ہوگی۔
پرتشدد جھڑپوں کی عینی شاہد گواہی
ایک احتجاجی نے اے این آئی کو بتایا: ’’پولیس نے براہ راست فائرنگ کی، ایک گولی میرے دوست کے سر میں لگی، جو موقع پر گر گیا۔ پولیس گھٹنے سے اوپر نشانہ بنا رہی ہے، کیا انہیں اس کی اجازت ہے؟‘‘ ایک اور شخص نے کہا: ’’ہم پرامن احتجاج کے لیے نکلے تھے، لیکن پولیس نے تشدد شروع کر دیا۔ یہ احتجاج بدعنوانی کے خلاف ہے، مگر حکومت اسے طاقت سے دبا رہی ہے۔‘‘
’جنریشن زی‘ تحریک کا پھیلاؤ
مظاہرین نے صبح 9 بجے کٹھمنڈو سے مارچ شروع کیا۔ ’ہامی نیپال‘ نامی تنظیم نے یہ ریلی منظم کی تھی، جس نے پیشگی اجازت حاصل کی تھی۔ سوشل میڈیا پر احتجاج کے راستوں اور حفاظتی ہدایات کا اشتراک کیا جا رہا تھا۔ طلبہ کو یونیفارم میں کتابیں لے کر شامل ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔ کچھ مظاہرین نے حکومت پر الزام لگایا کہ بڑی سیاسی جماعتیں — سی پی این-یو ایم ایل، نیپالی کانگریس اور ماؤ نواز سینٹر — اس پابندی پر خاموش ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شریک ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


