Nepal Communal Violence: نیپال میں خونریز کھیل، انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ فسادات، حالات ایک بار پھر کشیدہ
نیپال میں آئندہ عام انتخابات سے پہلے ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور فرقہ وارانہ تشدد نے ملک کے امن و امان کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مارچ 2026 میں ہونے والے انتخابات سے محض چند ہفتے قبل بھارتی سرحد سے متصل علاقوں میں بھڑک اٹھنے والے فسادات نے نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ خطے کی سلامتی سے وابستہ اداروں کو بھی چوکنا کر دیا ہے۔
Nepal Gen Z Protests- 4552 Prisoners Escaped : نیپال میں ’جین زی‘ پُرتشدد واقعات کے بعد فرار 4,552 قیدی اب بھی لاپتہ ، حکومت کے لیے بڑا چیلنج
نیپال میں ستمبر کے مہینے میں ہوئے ’جین زی‘ ہنگاموں کے دوران سرکاری اداروں، عمارتوں اور جیلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیپال کی مختلف جیلوں میں قید ہزاروں قیدی فرار ہو گئے، جن میں سے اب بھی 4,552 سے زائد قیدی لاپتہ ہیں اور حکومت کو ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
Law-and-order challenges after GenZ protests: کھٹمنڈو میں ایک بار پھر امن و امان کے بگڑنے کا خدشہ، دھرنوں اوراحتجاج پر لگی پابندی
کھٹمنڈو ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کے بگڑنے اور سرکاری اور نجی املاک کے تحفظ کے پیش نظر لیا گیا ہے، ستمبر میں جین زی تحریک کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں سیکورٹی چیلنجز کو بڑھا سکتی ہیں
Nepal Protest: نیپال میں بگڑتے حالات، پی ایم کے پی شرما اولی کے بعد صدر رام چندر پوڈیل نے بھی دیا استعفیٰ
نیپال کے سابق پی ایم جھالا ناتھ کھنل کی اہلیہ راجیہ لکشمی چترکار کی موت ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے ان کے گھر پر حملہ کیا، جس میں شدید توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی گئی۔
Nepal Lifts Social Media Ban: نیپال حکومت نے سوشل میڈیا پر عائد پابندی ہٹائی، وزیر اعظم اولی نہیں ہوں گے مستعفی، جانیے کسے ٹھہرایا مظاہرین کی اموات کا ذمہ دار
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے مظاہرین پر طاقت کے مبینہ غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
Nine dead, curfew imposed in parts of Nepal: سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف پرتشدد مظاہرے، نیپال میں ’جنریشن زی‘ احتجاج پر پولیس نے کیا طاقت کا استعمال، 9 افراد ہلاک، کرفیو نافذ
مظاہرین نے صبح 9 بجے کٹھمنڈو سے مارچ شروع کیا۔ ’ہامی نیپال‘ نامی تنظیم نے یہ ریلی منظم کی تھی، جس نے پیشگی اجازت حاصل کی تھی۔ سوشل میڈیا پر احتجاج کے راستوں اور حفاظتی ہدایات کا اشتراک کیا جا رہا تھا۔ طلبہ کو یونیفارم میں کتابیں لے کر شامل ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔





