امن و امان کے لیے ممکنہ خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کی ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی سیاسی اجتماع، کانفرنس، احتجاج، دھرنے اور موٹر سائیکل ریلیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ کھٹمنڈو کے چیف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایشورراج پوڈیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ متعدد تنظیموں کی جانب سے ایک ہی دن ایک ہی جگہ پر احتجاج کرنے کی اجازت کی درخواست کے بعد کیا گیا۔
سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی جماعت سی پی این-یو ایم ایل کی نوجوانوں کی شاخ “نیشنل یوتھ ایسوسی ایشن نیپال” نے موجودہ حکومت اور جین-جی گروپوں کے خلاف موٹر سائیکل ریلی نکالنے کی اجازت طلب کی تھی۔ جمعہ کو جاری کردہ ایک نوٹس میں چیف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایشورراج پوڈیل نے کہا، “مختلف گروپوں نے مطلع کیا ہے کہ وہ ہفتہ کو کھٹمنڈو ضلع کے مختلف حصوں میں موٹر سائیکل ریلیاں اور اجتماعات منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ انہو ں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسی کسی بھی ریلی، مظاہرے، یا اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
کھٹمنڈو میں امن و امان کے بگڑنے کا خدشہ
کھٹمنڈو ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کے بگڑنے اور سرکاری اور نجی املاک کے تحفظ کے پیش نظر لیا گیا ہے، ستمبر میں جین زی تحریک کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں سیکورٹی چیلنجز کو بڑھا سکتی ہیں اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
کھٹمنڈو کے چیف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر نے تمام افراد اور تنظیموں کو یاد دلایا کہ وہ لوکل ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2028 کے سیکشن 6(3)(a) اور پولیس ایکٹ 2012 کے سیکشن 19 کی تعمیل کریں۔ ان قوانین کے تحت کھٹمنڈو میں عوامی تقریبات کے لیے پیشگی اجازت درکار ہے۔ کھٹمنڈو کی ضلعی انتظامیہ نے افراد اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بغیر اجازت کسی بھی اجتماع کا انعقاد یا حوصلہ افزائی نہ کریں۔
CPN-UML یوتھ ونگ کو ریلی کی اجازت دینے سے انکار
یہ پابندی نیپال میں حالیہ جین زی مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد، آتش زنی اور توڑ پھوڑ کی روشنی میں لگائی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی، بدعنوانی اور سیاسی اقربا پروری سے نوجوانوں کے غصے کو ہوا ملی۔ ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پرتشدد جھڑپوں میں 19 افراد
ہلاک ہوئے، جس کے بعد کھٹمنڈو میں کرفیو نافذ ہوگیا تھا۔ CPN-UML کے یوتھ ونگ کی طرف سے منصوبہ بندی کی گئی ایک ریلی کو سکیورٹی خطرات کی وجہ سے روک دیا گیا ہے ،جس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

