کٹھمنڈو: نیپال میں سوشل میڈیا پابندی اور بدعنوانی کے خلاف جاری ’جنریشن زی‘ مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان میں 6 افراد ٹراما سینٹر، 3 سول اسپتال، 3 ایورسٹ اسپتال، ایک کٹھمنڈو میڈیکل کالج اور ایک تری بھون یونیورسٹی ٹیچنگ اسپتال میں دم توڑ گئے۔
اسپتالوں میں دباؤ، زخمیوں کی شناخت جاری
زخمیوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوسکی کیونکہ مریضوں کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ سول اسپتال اور ٹراما سینٹر سمیت کئی اسپتال گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث زخمیوں کو دیگر مراکز بھیج رہے ہیں۔ ہلاک اور زخمی افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
پابندی کے بعد احتجاج میں شدت
4 ستمبر کو حکومت کی جانب سے فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب اور دیگر غیر رجسٹرڈ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے بعد سے مظاہروں میں شدت آئی۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس نے واٹر کینن، آنسو گیس اور براہِ راست فائرنگ کی۔ صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے نیپالی فوج کو بھی طلب کر لیا گیا۔
عینی شاہدین کے بیانات
ایک مظاہر نے کہا، ’’ہم پرامن احتجاج کرنا چاہتے تھے مگر پولیس نے فائرنگ شروع کر دی۔ میرے پیچھے کھڑے دوست کو گولی ہاتھ میں لگی جبکہ دوسرے کو سر میں نشانہ بنایا گیا۔ پولیس گھٹنے سے اوپر فائر کر رہی ہے، کیا انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہے؟‘‘
دیگر شہروں میں بھی احتجاج
کٹھمنڈو، جھاپا، پوکھرا، بٹول، چتون، نیپال گنج اور بیراٹ نگر سمیت کئی شہروں میں نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ جھاپا میں مظاہرین نے وزیراعظم کے پی شرما اولی کا پتلا نذرِ آتش کیا اور میونسپل دفتر کے گیٹ توڑنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں اور ایک شخص شدید زخمی ہوا۔ کئی موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


