Bharat Express DD Free Dish

Nepal News

ایسوسی ایشن کے مطابق اتوار تک نیپال میں چار روز سے جاری موسلا دھار بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک، پانچ لاپتہ اور پانچ دیگر زخمی ہوئے تھے۔ لینڈ سلائیڈنگ سے سب سے زیادہ 14 اموات ہوئیں اور پانچ افراد لاپتہ ہیں، جبکہ سیلاب کے باعث چار اور مسلسل شدید بارش سے تین افراد ہلاک ہوئے۔ 

باجھانگ ضلع میں 42 سالہ خاتون بملہ دیوی کا بیمار کتے کو زندہ پل سے سیٹی دریا میں پھینکنے کا ویڈیو سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔

حکام نے برآمد کی گئی زیادہ تر لاشوں کو دیوگھاٹ میں دفن کیا ہے۔ دیوگھاٹ وہ مقام ہے جہاں کالی گنڈکی اور تریشولی ندیاں آپس میں ملتی ہیں۔ حکام کے مطابق لاشوں کو دفن کرنے کا مقصد ممکنہ صحت کے خطرات سے بچاؤ ہے۔ لاشوں کی تدفین سے قبل حکام نے ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے ہیں، تاکہ بعد میں نامعلوم متوفیوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔

ٹیڈروس نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی فوری ترجیح سیلاب سے متاثرہ برادریوں کو صحت کی خدمات فراہم کرنا اور جہاں طبی سہولیات متاثر ہوئی ہیں، انہیں دوبارہ بحال کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ادارۂ صحت نیپالی حکومت کی قیادت میں عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مختلف شراکت دار اداروں کے درمیان ضروری رابطہ، نگرانی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔

انفوسس کے مطابق، گوپی سیٹی نیپال کے دورے پر کسی سرکاری یا کاروباری کام کے سلسلے میں نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں گئے تھے۔ سیلاب کے بعد ان سے رابطہ نہ ہونے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد کمپنی کی فوری ترجیح ان کی سلامتی اور خیریت کا پتہ لگانا ہے۔ کمپنی نے ان کے اہل خانہ سے بھی مسلسل رابطہ برقرار رکھنے اور اس مشکل وقت میں ضروری تعاون فراہم کرنے کی بات کہی ہے۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر 26 اگست کو آنے والے شدید اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ پانی اور ملبے کے تیز بہاؤ نے سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ اس تباہی کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر اتنا بھیانک سیلاب آیا کیسے؟

سیلاب نے نیپال کے کئی قصبوں اور دیہات کو متاثر کیا، اہم پل بہا دیے اور تقریباً ایک درجن ہائیڈرو پاور منصوبوں کو نقصان پہنچایا۔ چتوان ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 64 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب سے 105 بھارتی سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ان میں 31 یاتری بھی شامل تھے، جو مانسروور کی یاترا پر جا رہے تھے۔ یہ معلومات نیپال ٹورازم بورڈ نے دی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ ان لاپتہ بھارتیوں کے بارے میں معلومات جمع کر رہا ہے۔

نیپال میں سیلاب سے ہوئی تباہی کے درمیان وزیراعظم بالیندر شاہ نے قومی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر اسیم شاہ کے مطابق، وزیر اعظم خود متاثرہ علاقوں کے چیف ڈسٹرکٹ افسران سے رابطے میں ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھ رہے ہیں۔

نیپال کے وزیر اعظم بالن شاہ اپنے اس سخت سفارتی اصول میں نرمی لانے جا رہے ہیں، جس کے تحت وہ کسی بھی غیر ملکی سفیر سے تنہائی میں ملاقات نہیں کرتے تھے۔ حکومت کے 100 دن مکمل ہونے کے بعد بالن شاہ اس ہفتے بھارت اور چین کے سفیروں سے الگ الگ ون آن ون ملاقات کریں گے۔