کھٹمنڈو: نیپال کے بلند پہاڑی ضلع منانگ میں ہملنگ ہمال کے بیس کیمپ پر برفانی تودہ گرنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والے مزید دو کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔ نیپال نیشنل ماؤنٹین گائیڈ ایسوسی ایشن (NNMGA) نے پیر کو سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اتوار کو دو لاشیں برآمد ہونے کے بعد پیر کو مزید دو کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے بتایا کہ اتوار کو چھیبی بھوٹے اور پاسانگ بھوٹے کی لاشیں برآمد کی گئی تھیں، جبکہ پیر کو بیرندر گورنگ اور گھان شیام رائے کی لاشیں بھی تلاش کرلی گئیں۔
12 افراد اب بھی لاپتہ
NNMGA نے کہا کہ علاقے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حالات سازگار رہے تو ٹیم مزید 3 سے 4 گھنٹے تک کارروائی جاری رکھے گی۔ ایسوسی ایشن نے اس سانحے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ اور عزیزوں سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشن مکمل ہونے تک تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ دریں اثنا، ’کٹھمنڈو پوسٹ‘ نے NNMGA کے صدر تل سنگھ گورنگ کے حوالے سے بتایا کہ 12 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس سے قبل اتوار کو نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) نے نیپال پولیس ہیڈکوارٹر کے ذریعے تصدیق کی تھی کہ ہملنگ ہمال کے بلند مقام پر موجود بیس کیمپ سے ریسکیو اہلکاروں نے دو افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں۔
وارننگ کے باوجود کچھ لوگ بیس کیمپ میں رکے
مہم کے منتظم منگما گیالجے شیرپا نے بتایا کہ برفانی تودہ اتوار کی صبح بیس کیمپ سے ٹکرایا اور ان کے دو کچن اسٹاف سمیت کم از کم 10 افراد لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے موسم کی وارننگ جاری ہونے کے بعد مہم کی ٹیموں اور رسی لگانے والی ٹیموں نے پہاڑی ڈھلوانوں سے واپسی اختیار کرلی تھی، تاہم کچھ افراد وہیں رک گئے تھے۔ علاقے میں کئی دنوں سے شدید برف باری جاری تھی، جس کے باعث کوہ پیماؤں کو موسم خزاں میں ہملنگ ہمال کی مہم سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اتوار کو برفانی تودے کی زد میں آنے والے افراد مختلف مہماتی کمپنیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
خراب موسم نے ریسکیو میں مشکلات بڑھائیں
منانگ ضلع میں واقع ہملنگ ہمال کی چوٹی 7,126 میٹر بلند ہے اور بلند پہاڑی علاقوں میں تجربہ حاصل کرنے والے کوہ پیماؤں کے لیے ایک مقبول مقام ہے۔ یہاں ہیلی کاپٹر پروازوں کے لیے اضافی اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ مقام تک پہنچنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔ خلیج بنگال کے اوپر بننے والے موسمی نظام کے باعث نیپال کے پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری جبکہ پہاڑی اور میدانی علاقوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ خراب موسم کے باعث سڑکیں متاثر ہوئی ہیں اور مقامی انتظامیہ نے کئی راستوں پر ٹریفک بھی بند کردی ہے۔ محکمہ سیاحت نے موسم کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر ٹریکروں اور کوہ پیماؤں کو سرگرمیاں معطل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 21 افراد ہلاک
NDRRMA کے مطابق اتوار تک نیپال میں چار روز سے جاری موسلا دھار بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک، پانچ لاپتہ اور پانچ دیگر زخمی ہوئے تھے۔ لینڈ سلائیڈنگ سے سب سے زیادہ 14 اموات ہوئیں اور پانچ افراد لاپتہ ہیں، جبکہ سیلاب کے باعث چار اور مسلسل شدید بارش سے تین افراد ہلاک ہوئے۔ شدید موسم سے ملک بھر میں 247 خاندان متاثر ہوئے، جبکہ 260 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 80 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ہمالیائی ملک میں یہ تازہ قدرتی آفت گزشتہ ماہ آنے والے بھوٹے کوشی سیلاب کے تقریباً ایک ماہ بعد پیش آئی ہے، جس میں اب تک 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک اور 6,000 سے زائد لاپتہ ہوچکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

