Bharat Express DD Free Dish

Rescue operations

ایسوسی ایشن کے مطابق اتوار تک نیپال میں چار روز سے جاری موسلا دھار بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک، پانچ لاپتہ اور پانچ دیگر زخمی ہوئے تھے۔ لینڈ سلائیڈنگ سے سب سے زیادہ 14 اموات ہوئیں اور پانچ افراد لاپتہ ہیں، جبکہ سیلاب کے باعث چار اور مسلسل شدید بارش سے تین افراد ہلاک ہوئے۔ 

کٹھمنڈو میں بھارتی سفارتخانے نے بھی کہا کہ بھارتی ٹنل ریسکیو ٹیم نے نیپالی فوج کی ٹیم کے ساتھ مل کر چلیمی اور لنگ ٹانگ کے علاقوں میں آبی بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں انجام دیں۔ سفارتخانے کے مطابق بھارتی ٹیم نیپالی فوج کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھے گی۔ 

متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار سرچ، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ قدرتی آفت 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب تبت-نیپال سرحد پر ایک تباہ کن اچانک سیلاب آیا۔

’دی کٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق راسوا اور اس سے ملحقہ اضلاع میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال کی حکومت نے باضابطہ طور پر قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کے مختلف علاقوں کو تین ماہ کے لیے بحران زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔

اتر پردیش کی صورتحال پر بھی ریاستی حکومت کی جانب سے قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ گنڈک ندی سے قربت کے باعث کشی نگر ضلع کے متاثر ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر وہاں این ڈی آر ایف کی ایک اضافی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔

بھارت کے مشرقی ساحل پر ایک مال بردار جہاز کے اچانک ڈوبنے سے ہلچل مچ گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاز سمندر میں محض 8 منٹ کے اندر ڈوب گیا۔ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو چینی شہریوں کو بچا لیا، جبکہ جہاز پر سوار 22 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس وقت 224 ریلیف کیمپوں میں 73 ہزار 74 بے گھر افراد کو پناہ دی جا رہی ہے، جبکہ 1,844 ریلیف تقسیم مراکز کے ذریعے متاثرین کو ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر 29 ہزار 985 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے بتایا کہ 24 جون سے اب تک ملک میں 782 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، اگرچہ ان کی شدت اور تعداد میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے زلزلے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سات روزہ قومی سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔

افغانستان حالیہ برسوں میں متعدد تباہ کن زلزلوں سے دوچار رہا ہے۔ ناقص تعمیرات اور دور دراز علاقوں میں وسائل کی کمی کے باعث امدادی کارروائیاں اکثر مشکل ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ سال 31 اگست کو مشرقی افغانستان میں 6.0 شدت کے زلزلے میں 2,200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ 7 اکتوبر 2023 کے زلزلے اور اس کے بعد آنے والے ضمنی جھٹکوں میں بھی طالبان حکومت کے مطابق کم از کم 4,000 افراد مارے گئے تھے۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور شدید بارش کے باعث پنجاب کا وسیع حصہ زیرآب، بنیادی ڈھانچے اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں طغیانی نے لاکھوں افراد کو گھروں سے بے دخل کر دیا۔