آسام میں سیلاب کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے، تاہم تباہی کے اثرات اب بھی وسیع پیمانے پر برقرار ہیں۔ ریاستی حکومت کے مطابق بازآبادکاری اور راحت رسانی کی سرگرمیوں میں تیزی لائی گئی ہے، جبکہ سیلاب سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 87 ہو گئی ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ASDMA) کے مطابق 29 اپریل سے 3 اگست تک سیلاب نے ریاست کے 25 اضلاع میں 11 لاکھ 45 ہزار 109 افراد کو متاثر کیا۔ اس دوران 77 ریونیو سرکل اور 2,281 دیہات سیلاب کی زد میں آئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ضلع شیوساگر میں سب سے زیادہ 47 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ چرائی دیو میں 21، جورہاٹ میں 9، دھیماجی اور گولاگھاٹ میں 3، 3، کربی آنگلونگ میں 2، اور سونیت پور و کامروپ میں ایک، ایک شخص کی موت ہوئی۔ حکام کے مطابق اب بھی چار افراد لاپتا ہیں، جن میں تین شیوساگر اور ایک دھیماجی سے تعلق رکھتا ہے۔
ریلیف کیمپوں اور بازآبادکاری کا عمل جاری
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس وقت 224 ریلیف کیمپوں میں 73 ہزار 74 بے گھر افراد کو پناہ دی جا رہی ہے، جبکہ 1,844 ریلیف تقسیم مراکز کے ذریعے متاثرین کو ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر 29 ہزار 985 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ سیلاب کے باعث ریاست بھر میں 3,771 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ 12,987 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ متاثرہ اضلاع میں راحت رسانی اور بازآبادکاری کا کام پوری رفتار سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ہر متاثرہ خاندان کی بحالی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے نقصانات کا جائزہ، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور امدادی سامان کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ پانی اترنے کے بعد بے گھر خاندانوں کی گھروں کو واپسی میں بھی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم حکام نے بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

