Bharat Express DD Free Dish

Assam Floods

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے جمعرات کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس ملاقات کی اطلاع دی۔

سیلاب سے ریاست میں زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکام کے مطابق 10,748.64 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 47 ہزار سے زیادہ مویشی بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں،

معلومات کے مطابق یہ پہل مشترکہ مہم ’آشیانہ‘ کے تحت شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد ان خاندانوں کو محفوظ چھت فراہم کرنا ہے جو سیلاب کے باعث بے گھر ہوگئے ہیں۔ گھروں کی تعمیر بانس اور ٹین کی چادروں سے کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں آنے والے سیلاب کے دوران نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس وقت 224 ریلیف کیمپوں میں 73 ہزار 74 بے گھر افراد کو پناہ دی جا رہی ہے، جبکہ 1,844 ریلیف تقسیم مراکز کے ذریعے متاثرین کو ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر 29 ہزار 985 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

آسام میں سیلاب کی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ASDMA) کے مطابق یکم اگست تک سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 82 ہو گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق شیوساگر اور چرائی دیو اضلاع میں دو مزید افراد جان کی بازی ہار گئے۔

آسام میں سیلاب کی وجہ سے بگڑتے ہوئے حالات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست کے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ دوسری جانب، شیو ساگر میں سیلابی بحران مزید سنگین ہونے کے بعد وہاں کے اراکینِ اسمبلی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 فوج نے کہا ہے کہ بچاؤ مہم جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی وسائل بھی فوری طور پر تعینات کیے جائیں گے۔ فوج نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران ملک کے عوام کے ساتھ کھڑا رہنا اس کی ذمہ داری ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

گزشتہ کئی دنوں سے اروناچل پردیش میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث مختلف اضلاع میں لینڈ سلائیڈ، اچانک سیلاب اور گھروں و بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے دریاؤں کے کنارے اور حساس علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔