Bharat Express DD Free Dish

Flood Situation in Assam: آسام میں سیلاب سے اب تک 98 اموات، 13 اضلاع کے 1.55 لاکھ سے زائد افراد متاثر

سیلاب سے ریاست میں زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکام کے مطابق 10,748.64 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 47 ہزار سے زیادہ مویشی بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں،

نئی دہلی : آسام میں شدید بارش اور سیلاب کے باعث صورتحال اب بھی سنگین بنی ہوئی ہے۔ ریاست میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 98 ہوگئی ہے، جبکہ متاثرہ اضلاع کی تعداد کم ہو کر 13 رہ گئی ہے۔ ریاستی حکام کے مطابق اس وقت تقریباً 1 لاکھ 55 ہزار 849 افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ASDMA) کی جانب سے جاری بلیٹن کے مطابق سیلاب سے ایک اور موت چرائیدیو ضلع کے مہمورا ریونیو سرکل میں ہوئی ہے، جس کے بعد ریاست میں سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 98 تک پہنچ گئی ہے۔

13 اضلاع میں سیلاب کا اثر

سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں شیوساگر، گولاگھاٹ، ناگاؤں، ہوجائی، سونیت پور، دھیمہ جی، درانگ، وشوناتھ، کامروپ میٹرو، لکھیم پور، اودال گڑی، جورہاٹ اور چرائیدیو شامل ہیں۔ان اضلاع کے 33 ریونیو سرکلز اور 464 گاؤں سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر 1,55,849 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں گولاگھاٹ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جہاں 58,750 افراد سیلاب کی زد میں ہیں۔ اس کے بعد شیوساگر میں 48,286 اور جورہاٹ میں 25,259 افراد متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب نے کئی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سڑکوں، پلوں اور مکانات سمیت مختلف سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

دو اضلاع میں حالات بہتر

جمعرات تک ریاست کے 15 اضلاع میں ایک لاکھ 68 ہزار سے زیادہ افراد سیلاب سے متاثر تھے، تاہم اب دو اضلاع میں صورتحال بہتر ہونے کے بعد متاثرہ اضلاع کی تعداد کم ہو کر 13 ہوگئی ہے۔انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ افراد کے لیے 55 ریلیف کیمپ چلائے جا رہے ہیں، جہاں 10 ہزار سے زیادہ بے گھر افراد نے پناہ لی ہے۔ اس کے علاوہ امدادی سامان کی تقسیم کے لیے مزید 18 مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

کئی دریاؤں میں پانی خطرے کے نشان سے اوپر

سیلاب کی صورتحال اس وقت بھی کئی علاقوں میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ گولاگھاٹ ضلع کے گولاگھاٹ شہر اور نومالی گڑھ میں دھن سری ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ شری بھومی ضلع میں کوشیارا ندی بھی خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔

10 ہزار ہیکٹر سے زیادہ فصل زیر آب

سیلاب سے ریاست میں زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکام کے مطابق 10,748.64 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 47 ہزار سے زیادہ مویشی بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے والے افراد کو خوراک اور دیگر ضروری اشیا فراہم کی جا رہی ہیں۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read