Bharat Express DD Free Dish

incident

ہندوستان نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی فوری طور پر کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ حالات کو معمول پر لانے اور خطے میں امن و استحکام بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ہندوستان بین الاقوامی سمندری حدود میں تجارتی جہازوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مخالفت کرتا ہے۔

وزیر اعظم دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم کا پیغام شیئر کیا گیا، جس میں انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی پرارتھنا کی۔اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے حادثے میں جان گنوانے والے ہر شخص کے اہل خانہ کو وزیر اعظم قومی امدادی فنڈ (پی ایم این آر ایف) سے 2 لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔

اشوک گہلوت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ حادثے میں اپنے اہل خانہ کو کھونے والے خاندانوں کی تکلیف کا تصور کرکے دل بے چین ہو جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرنے والوں کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

حادثے کی ایک خوفناک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ کاروں میں بیٹھے لوگوں نے طیارے کو آسمان سے تیزی سے نیچے آتے اور سڑک کے قریب ٹکرانے کے بعد آگ کے گولے میں تبدیل ہوتے ہوئے اپنے کیمروں میں ریکارڈ کر لیا۔ جائے حادثہ پر موجود لوگ اس بات پر حیران تھے کہ طیارہ مکانات اور سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کے اتنے قریب کیسے گر کر تباہ ہوا۔

چیمبر میں گیس کا اخراج ہونے کے باعث تمام افراد بے ہوش ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ تمام افراد کو چیمبر سے باہر نکال کر اسپتال پہنچایا گیا، جہاں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق جمعہ کی رات تقریباً 9:30 بجے آگ لگنے کی اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر بیسمنٹ میں ہی قابو پا لیا، لیکن اس کا دھواں اوپر کی 4 منزلوں تک پھیل گیا تھا، جس کی وجہ سے راحت اور بچاؤ کے کام میں دشواری پیش آئی۔فیکٹری کی تیسری اور چوتھی منزل پر موجود لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا گیا۔

تبت میں جمعرات کی دیر رات آئے زلزلے سے جان و مال کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، شمالی تبت کے ناگچو شہر میں کم از کم 339 مکانات اور مویشیوں کو رکھنے کے 20 باڑے منہدم ہو گئے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 33 منٹ پر آیا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی سائبر ٹیم نے معاملے کی جانچ شروع کی۔ سب سے پہلے ویڈیو پوسٹ کرنے والے شخص کے انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) ایڈریس کا سراغ لگایا گیا۔ اس کی مدد سے ملزم کی جگہ کا پتہ لگایا گیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق، ملزم بہار کے ارریہ ضلع میں بیرگچھھی تھانہ علاقے کے کوشکی پور گاؤں کا رہنے والا ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامی حکام موقع پر پہنچ گئے اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کر دیا۔ ہلاک ہونے والے ملازمین کی لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ زخمیوں کو نجی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ضلع بھروچ کے واگرا علاقے کی سائیکھا جی آئی ڈی سی میں واقع اس کمپنی نے 53 ملازمین کے ساتھ کام شروع کیا تھا اور اسے قائم ہوئے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔

پشاور کے کیپٹل سٹی پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں اسکول کی چھت گرنے کے حادثے میں 40 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔امدادی حکام کے مطابق، چھت گرنے کے بعد کئی بچے ملبے تلے دب گئے تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ ٹیمیں ملبے میں بچوں اور اسکول کے ملازمین کو تلاش کر رہی ہیں۔