Bharat Express DD Free Dish

incident

فائر فائٹرز نے کافی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پالیا۔ تاہم، اس وقت تک آگ عمارت کے کئی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ امدادی ٹیموں نے ہوٹل کے اندر پھنسے افراد کو باہر نکالنے کی کوشش کی اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔تمام زخمیوں کو رام پورہاٹ گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع نے ابتدائی طور پر 5 افراد کی موت کی تصدیق کی۔

انتظامیہ کے مطابق، جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت بجلی کی سپلائی بند تھی۔ بجلی کے تار کو بھی کور کیا گیا تھا، اس لیے موقع پر کرنٹ پھیلنے کی بات درست نہیں تھی۔ تاہم، بجلی کے کھمبے کے گرنے اور اس کے بعد پھیلنے والی افواہ نے حالات کو انتہائی سنگین بنا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں موجود عقیدت مندوں کے درمیان بھگدڑ مچ گئی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران فوری طور پر موقع پر پہنچے۔

ماہرین کے مطابق میانمار میں زلزلوں کی بڑی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت ہے۔ میانمار ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کئی فعال ارضیاتی پلیٹیں اور فالٹس ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں۔ ہندوستانی پلیٹ مسلسل شمال مشرق کی سمت حرکت کرتے ہوئے یوریشیائی پلیٹ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس حرکت کے نتیجے میں زمین کی اندرونی تہوں میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔جب یہ دباؤ ایک خاص حد تک پہنچنے کے بعد اچانک خارج ہوتا ہے تو زمین کی سطح پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔

اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس(ایس ڈی آر ایف) ، پولیس اور ضلع انتظامیہ کی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ امدادی اہلکار سرنگ کے اندر موجود ملبہ اور پانی نکالنے کے ساتھ لاپتہ مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹا کر پھنسے ہوئے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ جائے حادثہ پر امدادی کارروائی مسلسل جاری ہے اور ملبے میں دبے لوگوں کو جلد از جلد باہر نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس سمیت تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

زلزلے کا مرکز چوکو خطے میں بتایا گیا ہے، جو کولمبیا کے غریب اور طویل عرصے سے نظرانداز کیے جانے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ خطہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے بھی متاثر رہا ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مزید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔علاقے کا دشوار گزار جغرافیہ بھی ریسکیو ٹیموں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

سیلاب سے ریاست میں زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکام کے مطابق 10,748.64 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 47 ہزار سے زیادہ مویشی بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں،

حکام کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی اہلکاروں کو جائے حادثہ پر بھیج دیا گیا۔ تاہم ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں افراد کی موجودہ حالت یا ان کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔فش لیک نیشنل فاریسٹ میں امریکی فاریسٹ سروس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایمرجنسی اہلکار موقع پر کارروائی کر رہے ہیں۔

فائر اہلکار آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے تو کمپنی کی سائیڈ میں واقع ایک دیوار اور اس سے منسلک لوہے کا بڑا بیم اچانک بھر بھر ا کر گر پڑا۔ ملبے کی زد میں آکر فائر سروس کے ہیڈ کانسٹیبل ڈرائیور راج پال سنگھ، ہیڈ کانسٹیبل ڈرائیور تیرتھ پال سنگھ، فائر مین منیش کمار، فائر مین امت کمار اور فائر مین روہت یادو شدید زخمی ہو گئے۔

 پولیس کو معلوم ہوا کہ مزید چار زخمی افراد نجی گاڑیوں کے ذریعے مختلف مقامی اسپتالوں میں پہنچائے گئے تھے۔ حکام کے مطابق ان میں سے ایک بالغ شخص دورانِ علاج دم توڑ گیا، جبکہ باقی پانچ زخمیوں کا علاج جاری ہے اور ان کی چوٹیں جان لیوا نہیں ہیں۔پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا اور تاحال کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔