Bharat Express DD Free Dish

incident

حادثے کے 24 گھنٹے سے زیادہ گزرنے کے باوجود جب متھن کا کوئی سراغ نہیں ملا تو اہل خانہ اور مقامی لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ لوگوں نے سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک روک دی اور بچے کو جلد تلاش کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک متھن نہیں ملتا، ان کی بے چینی اور غصہ ختم نہیں ہوگا۔

جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلہ جنوبی ایباراکی صوبے میں آیا۔ زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 70 کلومیٹر کی گہرائی میں بتایا گیا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے ٹوکیو سمیت مشرقی جاپان کے متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ حکام کے مطابق زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی،

ہوٹلوں میں آگ لگنے کے واقعات نے فائر سیفٹی کے انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں بھی ایک ہوٹل میں آگ لگنے کا بڑا حادثہ پیش آچکا ہے، جس میں 21 افراد کی جان چلی گئی تھی۔ اس طرح کے واقعات کے بعد ہوٹلوں اور دیگر تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کی جانچ اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔

فائر فائٹرز نے کافی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پالیا۔ تاہم، اس وقت تک آگ عمارت کے کئی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ امدادی ٹیموں نے ہوٹل کے اندر پھنسے افراد کو باہر نکالنے کی کوشش کی اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔تمام زخمیوں کو رام پورہاٹ گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع نے ابتدائی طور پر 5 افراد کی موت کی تصدیق کی۔

انتظامیہ کے مطابق، جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت بجلی کی سپلائی بند تھی۔ بجلی کے تار کو بھی کور کیا گیا تھا، اس لیے موقع پر کرنٹ پھیلنے کی بات درست نہیں تھی۔ تاہم، بجلی کے کھمبے کے گرنے اور اس کے بعد پھیلنے والی افواہ نے حالات کو انتہائی سنگین بنا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں موجود عقیدت مندوں کے درمیان بھگدڑ مچ گئی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران فوری طور پر موقع پر پہنچے۔

ماہرین کے مطابق میانمار میں زلزلوں کی بڑی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت ہے۔ میانمار ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کئی فعال ارضیاتی پلیٹیں اور فالٹس ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں۔ ہندوستانی پلیٹ مسلسل شمال مشرق کی سمت حرکت کرتے ہوئے یوریشیائی پلیٹ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس حرکت کے نتیجے میں زمین کی اندرونی تہوں میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔جب یہ دباؤ ایک خاص حد تک پہنچنے کے بعد اچانک خارج ہوتا ہے تو زمین کی سطح پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔

اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس(ایس ڈی آر ایف) ، پولیس اور ضلع انتظامیہ کی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ امدادی اہلکار سرنگ کے اندر موجود ملبہ اور پانی نکالنے کے ساتھ لاپتہ مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹا کر پھنسے ہوئے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ جائے حادثہ پر امدادی کارروائی مسلسل جاری ہے اور ملبے میں دبے لوگوں کو جلد از جلد باہر نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس سمیت تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

زلزلے کا مرکز چوکو خطے میں بتایا گیا ہے، جو کولمبیا کے غریب اور طویل عرصے سے نظرانداز کیے جانے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ خطہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے بھی متاثر رہا ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مزید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔علاقے کا دشوار گزار جغرافیہ بھی ریسکیو ٹیموں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

سیلاب سے ریاست میں زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکام کے مطابق 10,748.64 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 47 ہزار سے زیادہ مویشی بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں،