Bharat Express DD Free Dish

incident

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ٹیک آف کے فوراً بعد پائلٹوں کو طیارے میں خرابی کا علم ہوا۔ طیارے کا ٹائر الگ ہونے کے بعد پائلٹوں نے فوری طور پر مسافروں کو تکنیکی خرابی کے بارے میں اطلاع دی۔دوران پرواز طیارے میں شدید جھٹکے لگنے لگے اور وہ زور زور سے ہلنے لگا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پائلٹوں نے طیارے کا رخ دوبارہ مشہد ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا، جہاں اسے بحفاظت اتار لیا گیا۔

شوانی چوہان کے والد روشن چوہان نے بتایا کہ پولیس کی 5 ٹیمیں معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں اور اپنا کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے پولیس سے اپیل کی کہ وہ سختی کے ساتھ کارروائی کرے۔انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی نے انہیں اس واقعے کے بارے میں نہیں بتایا تھا کیونکہ وہ گھبرا گئی تھی۔ انہیں بھی اس معاملے کی اطلاع میڈیا کے ذریعے ملی

واضح رہے کہ 6 ستمبر کو دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک عمارت گرنے سے کم از کم 7 افراد کی موت ہوگئی تھی۔ یہ عمارت لڑکوں کے پی جی کے طور پر استعمال کی جا رہی تھی۔ اس حادثے کے بعد دارالحکومت میں خستہ حال اور غیر قانونی عمارتوں کی حفاظت کو لے کر کئی سوالات کھڑے ہوئے تھے۔

پولیس چوکی کے باہر عرفان عرف مونو کے خود کو آگ لگانے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔ وائرل ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ مونو نے پہلے اپنے اوپر پٹرول ڈالا اور پھر ماچس کی تیلی جلا کر خود کو آگ لگا لی۔مونو کے قریب کھڑے کچھ لوگ موبائل فون سے اس واقعے کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ آگ لگاتے ہی موقع پر شور مچ گیا۔ اسی دوران پولیس اہلکار چوکی سے باہر آئے اور آگ بجھانے کی کوشش شروع کردی۔

سَتیہ نکیتن میں پیش آئے اس بڑے حادثے کے بعد دہلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پوری دہلی میں ایسی تمام عمارتیں، جو غیر قانونی طور پر پانچ یا اس سے زیادہ منزلوں کی تعمیر کی گئی ہیں، انہیں سیل کیا جائے گا۔حکومت کے اس فیصلے کے بعد پی جی میں رہنے والے طلبہ کو محسوس ہو رہا ہے کہ وہ دونوں طرف سے پھنس گئے ہیں، کیونکہ سَتیہ نکیتن میں زیادہ تر پی جی پانچ یا اس سے زیادہ منزلہ عمارتوں میں ہی قائم ہیں۔

ضلع اسپتال کے ڈاکٹر دیپک نے بتایا کہ اہل خانہ پوروَی کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لے کر آئے تھے، جہاں طبی معائنے کے بعد اسے مردہ قرار دیا گیا۔ اسپتال کی جانب سے کوتوالی پولیس کو میمو بھیج دیا گیا ہے۔پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ اب سب کو پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے، جس کے بعد ہی پوروَی کی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔

حادثے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے واقعے کی مجسٹریٹ انکوائری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ تحقیقات میں عمارت منہدم ہونے کی وجوہات، تعمیر اور مرمت کے دوران اختیار کیے گئے حفاظتی معیارات اور مبینہ غفلت سمیت دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ستیہ نکیتن میں پیش آنے والے اس حادثے نے دارالحکومت میں پی جی اور کرائے کے مکانات میں رہنے والے طلبہ کی سلامتی کو ایک بار پھر سنگین سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

کوکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا ایک وفد ستیہ نکیتن عمارت حادثے میں زخمی افراد سے ملاقات کے لیے AIIMS ٹراما سینٹر پہنچا۔ CJP کے نیشنل جوائنٹ سیکریٹری بال کرشن شکلا نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور اس پر کچھ کہنا بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے، وہی جانتے ہیں کہ آج کا دن ان کے لیے کتنا تکلیف دہ ہے۔

حادثے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے لوگوں کو دہلا دیا۔ بتایا گیا کہ ملبے میں پھنسے کچھ طلبہ نے اپنے موبائل فون کے ذریعے لوگوں کو کال کرکے مدد طلب کی۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حادثے نے دارالحکومت میں عمارتوں کی حفاظت، غیر قانونی PG اور انتظامی نگرانی کے نظام پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

حادثے کے بعد پولیس اور اسپتال انتظامیہ نے آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وینٹی لیٹر میں دھماکا کس وجہ سے ہوا اور آیا اس میں کوئی تکنیکی خرابی موجود تھی یا نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچ کی جارہی ہے کہ طبی آلات کی بروقت جانچ اور دیکھ بھال کی جارہی تھی یا نہیں۔اس واقعے نے اسپتال کی فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات پر بھی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔