Bharat Express DD Free Dish

incident

انوراگ دھنکڑ نے سال 2025 میں تریپورہ کے ڈی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اپنی تعیناتی کے دوران انہوں نے ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے اور پولیس نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے تھے۔ ان کی قیادت میں پولیس نے کئی اہم کارروائیاں بھی انجام دی تھیں۔

حادثے کے بعد مقامی باشندوں نے بجلی محکمہ پر سنگین لاپرواہی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی کی لائنوں کی مناسب دیکھ بھال اور وقتاً فوقتاً معائنہ نہیں کیا جاتا، جس کے باعث اس طرح کے حادثات پیش آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت مرمت اور بڑھتے ہوئے بوجھ کے مطابق نظام کو مضبوط بنایا جاتا تو اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔

کرناٹک کے وزیرِ ٹرانسپورٹ بی سریش جب عام مسافر کا بھیس بدل کر بنگلورو کی سرکاری بس میں سوار ہوئے تو ان کے پاس کرایے کے لیے کھلے پیسے نہیں تھے۔ اس پر کنڈکٹر نے انہیں پہچانے بغیر بس سے اتر جانے کو کہہ دیا۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی این ڈی آر ایف، دہلی فائر سروس، ڈی ڈی ایم اے اور مقامی پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ اتوار کو کئی گھنٹوں تک سرچ آپریشن جاری رہا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ رات کے وقت اندھیرا ہونے اور پانی میں حد نگاہ کم ہونے کے باعث تقریباً ساڑھے دس بجے آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا

جارج روڈریگیز نے بتایا کہ قدرتی آفت کے بعد تقریباً 30 ہزار رضاکاروں نے متاثرین کی مدد کے لیے خود کو رجسٹر کرایا ہے۔ حکومت نے ان رضاکاروں کو مکانات کی تعمیر اور مرمت کے منصوبوں میں شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے تاکہ بحالی کا عمل تیز کیا جا سکے۔

حادثے کی کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں عمارت سے بلند ہوتے شعلے اور دھویں کے بادل واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔تاحال آگ لگنے کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔ پولیس اور فرانزک ماہرین نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں اس سے قبل بھی آتشزدگی کے کئی بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

ٹوشا یشرما، جو ایک ماڈل اور اداکارہ تھیں، رواں برس 12 مئی کو مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں اپنے سسرال کے گھر میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھیں۔ ان کے جسم پر متعدد چوٹوں کے نشانات ملنے کے بعد معاملہ مشتبہ بن گیا تھا اور موت کی وجوہات پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے گولی لگنے والے پانچ افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے دو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ تین زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ حکام نے تاحال ہلاک ہونے والوں کی شناخت یا حملے کے محرکات سے متعلق کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فو کووک کے قریب بھارتی شہریوں سے متعلق کشتی حادثے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نالے کا سلیب کافی عرصے سے ٹوٹا ہوا تھا اور اس کی شکایت کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے کی گئی تھی، مگر اس کی مرمت نہیں کرائی گئی۔ بارش کے دوران پانی بھر جانے سے ٹوٹا ہوا حصہ مکمل طور پر چھپ گیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔