نئی دہلی: دہلی کے ستیہ نکیتن میں پیش آئے دردناک عمارت حادثے کو تقریباً 18 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ حادثے میں اب تک 6 افراد کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے، جس کے بعد انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی ہے۔ جائے حادثہ پر MCD کمشنر سنجیو کھیروار پہنچے، تاہم میڈیا کے سوالات پر انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔موقع پر ریسکیو آپریشن جنگی پیمانے پر جاری ہے۔ NDRF، دہلی پولیس اور فائر سروس کی ٹیمیں بھاری بھرکم سلیب اور ملبہ انتہائی احتیاط سے ہٹا کر اندر پھنسے افراد کو محفوظ باہر نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ریسکیو آپریشن نسبتاً سست رفتاری سے جاری ہے، کیونکہ بھاری مشینری کے ذریعے تیزی سے ملبہ ہٹانے کی صورت میں نیچے پھنسے زندہ افراد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
#BREAKING: 🇮🇳 PG hostel caves in at Satya Niketan, Delhi, India
Officials say none confirmed dead yet but unconfirmed reports claim three dead, two girls and one boy, with several rescued and three critically hurt at AIIMS#Delhi #SatyaNiketan #BuildingCollapse pic.twitter.com/AZkxrt0YCp
— Twilight (@TwilightDewy) September 6, 2026
CJP لیڈر بال کرشن شکلا نے کیا کہا؟
کوکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا ایک وفد ستیہ نکیتن عمارت حادثے میں زخمی افراد سے ملاقات کے لیے AIIMS ٹراما سینٹر پہنچا۔ CJP کے نیشنل جوائنٹ سیکریٹری بال کرشن شکلا نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور اس پر کچھ کہنا بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے، وہی جانتے ہیں کہ آج کا دن ان کے لیے کتنا تکلیف دہ ہے۔
6 افراد کی موت، 11 کو ملبے سے نکالا گیا
#BREAKING: 🇮🇳 PG hostel caves in at Satya Niketan, Delhi, India
Officials say none confirmed dead yet but unconfirmed reports claim three dead, two girls and one boy, with several rescued and three critically hurt at AIIMS#Delhi #SatyaNiketan #BuildingCollapse pic.twitter.com/AZkxrt0YCp
— Twilight (@TwilightDewy) September 6, 2026
ستیہ نکیتن عمارت حادثے میں اب تک 6 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ملبے سے نکالے گئے 5 افراد کو اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا، جبکہ ایک زخمی نے دوران علاج دم توڑ دیا۔ ریسکیو ٹیمیں اب تک 11 افراد کو ملبے سے باہر نکال چکی ہیں۔
When The Dreams Collapsed 💔
They Leave Home for DU with Dreams of a Better Future.
Instead, DU gives them an Uncertain Life — It cannot even Provide Safe Hostels.
Education should Gift a Future, Not Take Lives.
If India’s Capital offers Students Opportunities, it must also… pic.twitter.com/Ozosy4UA10
— তন্ময় l T͞anmoy l (@tanmoyofc) September 7, 2026
مالک سمیت دیگر افراد کے خلاف FIR
پولیس نے ساؤتھ کیمپس تھانے میں FIR نمبر 153/2026 درج کی ہے۔ مقدمے میں عمارت کے مالک ہری رام بنسل سمیت دیگر افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ان کے خلاف BNS کی دفعات 105، 290 اور 125(a) کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ دفعہ 105 غیر ارادی قتل، دفعہ 290 عمارت کی تعمیر یا مرمت میں لاپروائی جبکہ دفعہ 125(a) ایسے لاپرواہ عمل سے متعلق ہے جس سے کسی کی جان یا سلامتی کو خطرہ پہنچے۔
گراؤنڈ فلور پر جاری تھا تعمیراتی کام
پولیس کے مطابق حادثے کا شکار عمارت کو PG کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ الزام ہے کہ گراؤنڈ فلور پر تزئین و تعمیر کا کام جاری تھا۔ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اسی دوران ڈھانچہ کمزور ہونے کے باعث پوری عمارت منہدم ہوگئی۔
ساتھ والی عمارت بھی خالی کرانے کا حکم
حادثے کے بعد MCD نے عمارت نمبر 13 کو خستہ حال اور خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ رہائشیوں کو 3 دن کے اندر عمارت خالی کرنے اور اسے منہدم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکم پر عمل نہ ہونے کی صورت میں MCD خود عمارت منہدم کرسکتی ہے اور اس کا خرچ متعلقہ شخص سے وصول کیا جائے گا۔
4 منزل سے زیادہ غیر قانونی عمارتیں سیل ہوں گی
حادثے کے بعد MCD نے 4 منزل سے زیادہ کی تمام غیر قانونی تعمیرات والی عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ دہلی کے میئر پرویش واہی نے کہا کہ غیر قانونی عمارتوں کو تعمیر ہونے دینے والے افسران کی ذمہ داری بھی طے کی جائے گی اور قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
ملزمان کی تلاش، ملبے میں سرچ آپریشن جاری
پولیس نے ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے کئی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جبکہ ملبے میں مزید افراد کے پھنسے ہونے کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں انتہائی احتیاط سے ملبہ ہٹا رہی ہیں اور فی الحال ان کی اولین ترجیح کسی بھی ممکنہ زندہ شخص تک پہنچنا ہے
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
