Bharat Express DD Free Dish

Satya niketan

واضح رہے کہ 6 ستمبر کو دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک عمارت گرنے سے کم از کم 7 افراد کی موت ہوگئی تھی۔ یہ عمارت لڑکوں کے پی جی کے طور پر استعمال کی جا رہی تھی۔ اس حادثے کے بعد دارالحکومت میں خستہ حال اور غیر قانونی عمارتوں کی حفاظت کو لے کر کئی سوالات کھڑے ہوئے تھے۔

دارالحکومت کے تمام 12 زونوں میں بڑے پیمانے پر کارروائی، 33 جائیدادوں کو منہدم کیا گیا، 5 کو سیل اور 29 معاملات میں وجہ بتاؤ نوٹس بھی  جاری کیا گیا۔

پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران سدھانشو نے بتایا کہ مزدور نے اسے فون پر کہا تھا کہ تعمیراتی کام کی وجہ سے عمارت کی بنیاد کمزور ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں دیوار گرنے کا خطرہ ہے۔ سدھانشو نے دعویٰ کیا کہ عمارت اضافی بوجھ برداشت کرنے کی حالت میں نہیں تھی۔

دہلی میں غیر مجاز اور تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے جا رہے تعمیراتی کاموں کے خلاف میونسپل کارپوریشن نے اپنی کارروائی تیز کر دی ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن نے جمعہ کو دارالحکومت کے تمام 12 زونوں میں بیک وقت کارروائی کی۔ اس دوران خطرناک عمارتوں، غیر قانونی تعمیرات اور دہلی کے ماسٹر پلان اور عمارتوں سے متعلق ذیلی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔

دہلی حکومت نے PWD کے لیے الگ انجینئرنگ کیڈر بنانے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے کیڈر سے راجدھانی میں ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں کو رفتار ملے گی اور انجینئرنگ افسران کی جواب دہی بھی زیادہ مؤثر انداز میں طے کی جا سکے گی۔

سَتیہ نکیتن میں پیش آئے اس بڑے حادثے کے بعد دہلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پوری دہلی میں ایسی تمام عمارتیں، جو غیر قانونی طور پر پانچ یا اس سے زیادہ منزلوں کی تعمیر کی گئی ہیں، انہیں سیل کیا جائے گا۔حکومت کے اس فیصلے کے بعد پی جی میں رہنے والے طلبہ کو محسوس ہو رہا ہے کہ وہ دونوں طرف سے پھنس گئے ہیں، کیونکہ سَتیہ نکیتن میں زیادہ تر پی جی پانچ یا اس سے زیادہ منزلہ عمارتوں میں ہی قائم ہیں۔

حادثے کے مقام ستیہ نکیتن میں منہدم ہونے والی عمارت کے بالکل ساتھ واقع مکان نمبر 13 کو بھی گرانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ چار منزلہ اس عمارت میں طالبات کے لیے PG ہاسٹل چلایا جا رہا تھا۔ مرکزی عمارت کے منہدم ہونے کے بعد اس عمارت کی دیواروں میں بھی دراڑیں پڑ گئی تھیں، جس کے بعد اتوار کو ہی تمام طالبات کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

تین منزلہ پرانی عمارت کے اوپر مبینہ طور پر مزید تین منزلیں تعمیر کیے جانے کے دعوے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا عمارت کی ضروری حفاظتی معیارات کے مطابق جانچ کی گئی ہے؟ اگر عمارت کی مضبوطی اور سلامتی پر خدشات موجود ہیں تو اب تک اسے سیل کیوں نہیں کیا گیا، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔

ستیّہ نکیتن حادثے پر سوال اٹھاتے ہوئے سورَو داس نے کہا کہ کونسلر سے لے کر وزیر اعظم تک بی جے پی کے لوگ ہیں، پھر بچے کیسے مر رہے ہیں؟ چھتیں کیسے گر رہی ہیں اور آگ کے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟

مقامی باشندوں نے عمارت کے انہدام کے لیے مرمت کے کام اور بیسمنٹ میں جمع پانی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ بلدیاتی ادارے نے قریب کی ایک عمارت کو خالی کرا کر سیل کر دیا، جہاں لڑکیوں کا پی جی چل رہا تھا۔ حکام کے مطابق آس پاس کی کم از کم چار عمارتوں کو دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ، 1957 کی دفعہ 349 کے تحت خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔دفعہ 349 اور 491 کے تحت MCD خطرناک یا پرخطر قرار دی جانے والی عمارتوں کو خالی کرانے اور انہیں خطرناک قرار دینے کا نوٹس جاری کر سکتا ہے۔