Bharat Express DD Free Dish

Satya niketan

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق حادثے میں جان گنوانے والے 7 افراد میں سے 2 کے اہل خانہ نے ان کے قرنیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اہل خانہ کے اس فیصلے سے متوفیوں کے قرنیے ضرورت مند مریضوں کے کام آسکیں گے اور کسی کی آنکھوں میں روشنی واپس لانے میں مدد مل سکتی ہے۔حادثے میں اپنے عزیزوں کو کھونے کے باوجود دونوں خاندانوں کا یہ فیصلہ معاشرے کے لیے ایک متاثر کن پیغام ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز انتظامیہ نے بھی اہل خانہ کے اس اقدام کی ستائش کی ہے۔

اس سے قبل ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کے واقعے پر دہلی میونسپل کارپوریشن (MCD) کے کمشنر سنجیو کھیروار نے کہا تھا، ”بدقسمتی سے 7 افراد کی جان چلی گئی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ منہدم ہونے والی عمارت کے ساتھ والی عمارت بھی کمزور ہو گئی ہے اور رات بھر اسے مضبوط کرنے کا کام کیا گیا۔ اگلے 1-2 دن میں ہم اسے منصوبہ بندی کے تحت منہدم کرنے کا کام کریں گے۔“

حادثے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے واقعے کی مجسٹریٹ انکوائری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ تحقیقات میں عمارت منہدم ہونے کی وجوہات، تعمیر اور مرمت کے دوران اختیار کیے گئے حفاظتی معیارات اور مبینہ غفلت سمیت دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ستیہ نکیتن میں پیش آنے والے اس حادثے نے دارالحکومت میں پی جی اور کرائے کے مکانات میں رہنے والے طلبہ کی سلامتی کو ایک بار پھر سنگین سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

کوکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا ایک وفد ستیہ نکیتن عمارت حادثے میں زخمی افراد سے ملاقات کے لیے AIIMS ٹراما سینٹر پہنچا۔ CJP کے نیشنل جوائنٹ سیکریٹری بال کرشن شکلا نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور اس پر کچھ کہنا بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے، وہی جانتے ہیں کہ آج کا دن ان کے لیے کتنا تکلیف دہ ہے۔

حادثے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے لوگوں کو دہلا دیا۔ بتایا گیا کہ ملبے میں پھنسے کچھ طلبہ نے اپنے موبائل فون کے ذریعے لوگوں کو کال کرکے مدد طلب کی۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حادثے نے دارالحکومت میں عمارتوں کی حفاظت، غیر قانونی PG اور انتظامی نگرانی کے نظام پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں 5 منزلہ عمارت گرنے سے بڑا حادثہ پیش آیا۔ اب تک 12 افراد کو ملبے سے نکالا جا چکا ہے، جبکہ 4 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

ریکھا گپتا نے ستیہ نکیتن میں عمارت گرنے کے واقعے پر کہا کہ 11 افراد کو بچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسپتال جا رہی ہیں اور وہاں بچائے گئے تمام افراد کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کریں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ اس حادثے کے لیے جو بھی ذمہ دار ہے، چاہے وہ عمارت کا مالک ہو یا کوئی افسر، اسے بخشا نہیں جائے گا۔‘‘

دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں عمارت گرنے کے واقعے کی اطلاع ملتے ہی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گوا کا اپنا پروگرام درمیان میں ہی چھوڑ دیا۔