Bharat Express DD Free Dish

incident

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے گولی لگنے والے پانچ افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے دو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ تین زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ حکام نے تاحال ہلاک ہونے والوں کی شناخت یا حملے کے محرکات سے متعلق کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فو کووک کے قریب بھارتی شہریوں سے متعلق کشتی حادثے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نالے کا سلیب کافی عرصے سے ٹوٹا ہوا تھا اور اس کی شکایت کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے کی گئی تھی، مگر اس کی مرمت نہیں کرائی گئی۔ بارش کے دوران پانی بھر جانے سے ٹوٹا ہوا حصہ مکمل طور پر چھپ گیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

اس واقعے کے بعد سرکاری اسپتالوں کی عمارتوں کے معیار، دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مریضوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت عمارت کی خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو آئندہ اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

ایک بڑی چٹان اچانک سرک کر نیچے کام کرنے والے مزدوروں پر آ گری، جس کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا۔ادھر کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

فائر بریگیڈ کو اطلاع دی اور اپنی سطح پر بھی آگ پر قابو پانے کی کوششیں کیں۔اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ فائر اہلکاروں نے بلند منزل پر لگی آگ کو بجھانے کے لیے سخت محنت کی، کیونکہ 22ویں منزل پر آگ ہونے کی وجہ سے کارروائی میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد فائر ٹیموں نے آگ کی خطرناک لپٹوں پر قابو پالیا۔

متاثرہ بچے کے دادا نے اس معاملے کی شکایت پولیس تھانے میں درج کرا دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے کی حالت اس وقت مستحکم ہے، تاہم اس واقعے نے سوسائٹی میں رہنے والے خاندانوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

متوفی کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر شدید لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ سورج کی بھابھی ریتو نے کہا کہ اگر نالہ ڈھکا ہوتا یا یہاں روشنی کا مناسب انتظام ہوتا تو آج ان کا خاندان اس سانحے کا شکار نہ ہوتا۔ متوفی کے بھائی دھیرو نے بھی ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

چند ہی منٹوں میں آگ نے پوری سلیپر کوچ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بس آگ کے ایک بڑے گولے میں تبدیل ہوگئی۔ آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل دور تک دکھائی دینے لگے، جس سے شاہراہ پر کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں دو افراد کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں بہتر علاج کے لیے پریاگ راج ریفر کر دیا گیا ہے۔ زخمی ٹول ملازمین کی شناخت ہیرامن، آلوک، کرشن پال، اتُل اور راجو کے طور پر ہوئی ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، پولیس اور ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی شروع کی۔