Bharat Express DD Free Dish

incident

اس واقعے کے بعد سرکاری اسپتالوں کی عمارتوں کے معیار، دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مریضوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت عمارت کی خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو آئندہ اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

ایک بڑی چٹان اچانک سرک کر نیچے کام کرنے والے مزدوروں پر آ گری، جس کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا۔ادھر کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

فائر بریگیڈ کو اطلاع دی اور اپنی سطح پر بھی آگ پر قابو پانے کی کوششیں کیں۔اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ فائر اہلکاروں نے بلند منزل پر لگی آگ کو بجھانے کے لیے سخت محنت کی، کیونکہ 22ویں منزل پر آگ ہونے کی وجہ سے کارروائی میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد فائر ٹیموں نے آگ کی خطرناک لپٹوں پر قابو پالیا۔

متاثرہ بچے کے دادا نے اس معاملے کی شکایت پولیس تھانے میں درج کرا دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے کی حالت اس وقت مستحکم ہے، تاہم اس واقعے نے سوسائٹی میں رہنے والے خاندانوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

متوفی کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر شدید لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ سورج کی بھابھی ریتو نے کہا کہ اگر نالہ ڈھکا ہوتا یا یہاں روشنی کا مناسب انتظام ہوتا تو آج ان کا خاندان اس سانحے کا شکار نہ ہوتا۔ متوفی کے بھائی دھیرو نے بھی ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

چند ہی منٹوں میں آگ نے پوری سلیپر کوچ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بس آگ کے ایک بڑے گولے میں تبدیل ہوگئی۔ آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل دور تک دکھائی دینے لگے، جس سے شاہراہ پر کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں دو افراد کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں بہتر علاج کے لیے پریاگ راج ریفر کر دیا گیا ہے۔ زخمی ٹول ملازمین کی شناخت ہیرامن، آلوک، کرشن پال، اتُل اور راجو کے طور پر ہوئی ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، پولیس اور ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی شروع کی۔

عینی شاہدین کے مطابق زمین سے ٹکراتے ہی طیارے میں زور دار دھماکا ہوا اور اس کے ملبے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے فوراً بعد ایڈورڈز ایئرفورس بیس کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا جبکہ وہاں آنے اور جانے والی دیگر پروازوں کا رخ قریبی فوجی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔

دھماکے کے فوراً بعد پولیس، فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت علاقے میں لوگوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے تاکہ تحقیقات اور امدادی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

افسوسناک طور پر اس حادثے میں اب تک 10 مریضوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ متعدد افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور حکام اس کی تصدیق میں مصروف ہیں۔حادثے کے بعد مریضوں کے لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔