Bharat Express DD Free Dish

incident

دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جن علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، وہاں چٹانوں کے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ جاپان  کی مانیٹرنگ ایجنسی کے حکام نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اسی شدت کے مزید زلزلے آنے کا امکان موجود ہے،

دہلی فائر سروس کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع رات 11 بج کر 14 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد ابتدائی طور پر پانچ فائر بریگیڈ گاڑیاں موقع پر روانہ کی گئیں۔ بعد میں آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے مزید گاڑیاں طلب کی گئیں اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق جس عمارت میں آگ لگی، اس میں ایک ہوٹل بھی موجود تھا۔ چائنا نیوز ڈاٹ کام کے مطابق آگ عمارت کے مشرقی حصے میں شمال-جنوب راستے کے قریب بھڑکی، جس نے تیزی سے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

فریدپور فائر سروس کے کمانڈر محمد بلال الدین نے کہا، "ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کم از کم 35 لوگ لاپتا ہیں۔ بچاؤ مہم جاری ہے۔"رات تقریباً 11:15 بجے بس کا کچھ حصہ دیکھا گیا، اور 11:30 بجے تک جہاز کی کرین کے ذریعے پوری بس کو نکال لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بس ٹرین کے انجن میں پھنس گئی تھی اور ٹرین کے رکنے سے پہلے تقریباً ایک کلومیٹر تک گھسٹتی رہی، جس سے بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ زخمیوں کی چیخ و پکار سن کر مقامی افراد فوراً موقع پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔

فائر بریگیڈ کے سربراہ پاویل ٹوور نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے افراد طیارے میں سوار تھے یا سڑک پر موجود گاڑیوں میں شامل تھے۔

شہر کے مختلف علاقوں سے موصول اطلاعات کے مطابق زلزلے کے دوران گھروں میں فرنیچر اور چھت کے پنکھے ہلتے ہوئے دیکھے گئے۔ کئی دفتری عمارتوں میں ملازمین نے صورتحال کو بھانپتے ہی عمارتیں خالی کر دیں اور احتیاطاً کھلے میدانوں میں منتقل ہوگئے۔

خاندان کے مطابق بچی گزشتہ دو دن سے انتہائی نازک حالت میں آئی سی یو میں داخل تھی اور مسلسل بے ہوش پڑی رہی، مگر بار بار شکایت کرنے کے باوجود ڈاکٹروں نے مناسب توجہ نہیں دی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ علاج پر تقریباً 12 سے 14 لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود بچی کی جان نہ بچائی جا سکی۔

عینی شاہدین کے مطابق جب لواحقین نے مدد مانگی تو اسپتال کے کچھ ملازمین نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً خاندان کو انتہائی کرب اور بے بسی کی حالت میں یہ قدم اٹھانا پڑا۔

حادثے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید ناراضگی دیکھی گئی۔ مقامی رہائشی مہیش کمار نے کہا کہ اگرچہ بیگم پور پولیس اسٹیشن کے کچھ اہلکار موقع پر موجود تھے، لیکن ابتدا میں فائر بریگیڈ کی کوئی ٹیم وہاں نہیں پہنچی، جس کی وجہ سے امدادی کارروائی میں تاخیر ہوئی۔