Bharat Express DD Free Dish

incident

عینی شاہدین کے مطابق پل کا ایک حصہ اس وقت اچانک منہدم ہو گیا جب اس کی مرمت کا کام جاری تھا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسی دوران ایک گاڑی کے گزرنے سے ڈھانچہ کمزور ہو کر گر گیا، جس کے باعث مزدور ملبے تلے دب گئے۔

حادثے کے عینی شاہدین نے اس واقعے کو انتہائی خوفناک قرار دیا۔ ایک مسافر سوسان ساریفہ نے بتایا کہ وہ روزمرہ کے معمول کے مطابق کام سے گھر واپس آ رہی تھیں اور ان کی ٹرین بیکاسی تیمور اسٹیشن پر رکی ہوئی تھی کہ اچانک دوسری ٹرین آ کر اس سے ٹکرا گئی۔

سپریم کورٹ نے اپنے احکامات کی نقول تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز اور ڈی جی پیز کو فوری عمل درآمد کے لیے بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے دو ماہ بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت مقرر کی ہے تاکہ عمل درآمد کی رپورٹ کا جائزہ لیا جا سکے۔

دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جن علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، وہاں چٹانوں کے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ جاپان  کی مانیٹرنگ ایجنسی کے حکام نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اسی شدت کے مزید زلزلے آنے کا امکان موجود ہے،

دہلی فائر سروس کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع رات 11 بج کر 14 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد ابتدائی طور پر پانچ فائر بریگیڈ گاڑیاں موقع پر روانہ کی گئیں۔ بعد میں آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے مزید گاڑیاں طلب کی گئیں اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق جس عمارت میں آگ لگی، اس میں ایک ہوٹل بھی موجود تھا۔ چائنا نیوز ڈاٹ کام کے مطابق آگ عمارت کے مشرقی حصے میں شمال-جنوب راستے کے قریب بھڑکی، جس نے تیزی سے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

فریدپور فائر سروس کے کمانڈر محمد بلال الدین نے کہا، "ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کم از کم 35 لوگ لاپتا ہیں۔ بچاؤ مہم جاری ہے۔"رات تقریباً 11:15 بجے بس کا کچھ حصہ دیکھا گیا، اور 11:30 بجے تک جہاز کی کرین کے ذریعے پوری بس کو نکال لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بس ٹرین کے انجن میں پھنس گئی تھی اور ٹرین کے رکنے سے پہلے تقریباً ایک کلومیٹر تک گھسٹتی رہی، جس سے بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ زخمیوں کی چیخ و پکار سن کر مقامی افراد فوراً موقع پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔

فائر بریگیڈ کے سربراہ پاویل ٹوور نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے افراد طیارے میں سوار تھے یا سڑک پر موجود گاڑیوں میں شامل تھے۔

شہر کے مختلف علاقوں سے موصول اطلاعات کے مطابق زلزلے کے دوران گھروں میں فرنیچر اور چھت کے پنکھے ہلتے ہوئے دیکھے گئے۔ کئی دفتری عمارتوں میں ملازمین نے صورتحال کو بھانپتے ہی عمارتیں خالی کر دیں اور احتیاطاً کھلے میدانوں میں منتقل ہوگئے۔