Bharat Express DD Free Dish

US B52 Bomber Plane Crash: امریکہ میں بی-52 بمبار طیارہ حادثے میں  لوگوں کی درد ناک موت، ماہرین نے کنٹرول سسٹم یا انجن میں خرابی کا ظاہر کیا شبہ

عینی شاہدین کے مطابق زمین سے ٹکراتے ہی طیارے میں زور دار دھماکا ہوا اور اس کے ملبے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے فوراً بعد ایڈورڈز ایئرفورس بیس کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا جبکہ وہاں آنے اور جانے والی دیگر پروازوں کا رخ قریبی فوجی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔

نئی دہلی :امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں واقع مشہور ایڈورڈز ایئرفورس بیس پر پیر کی صبح امریکی فضائیہ کا ایک بی-52 بمبار طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ امریکی فضائیہ نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں فضائیہ کے اہلکاروں کے علاوہ فضائی تجربات اور آزمائشی پروازوں سے وابستہ سینئر ماہرین بھی شامل ہیں۔حکام کے مطابق یہ بی-52 بمبار طیارہ معمول کی آزمائشی پرواز (ٹیسٹ فلائٹ) پر روانہ ہوا تھا۔ پیر کی صبح تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر طیارے نے ایڈورڈز ایئرفورس بیس کے رن وے سے اڑان بھری، تاہم پرواز شروع ہونے کے چند ہی سیکنڈ بعد طیارہ اچانک بے قابو ہو گیا اور تیزی سے زمین کی جانب گرنے لگا۔

عینی شاہدین کے مطابق زمین سے ٹکراتے ہی طیارے میں زور دار دھماکا ہوا اور اس کے ملبے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے فوراً بعد ایڈورڈز ایئرفورس بیس کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا جبکہ وہاں آنے اور جانے والی دیگر پروازوں کا رخ قریبی فوجی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ حادثے کے وقت طیارے میں کسی قسم کا ہتھیار، میزائل یا حساس عسکری سازوسامان موجود تھا یا نہیں۔امریکی فضائیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ فضائی سلامتی کے ماہر جیف گزیٹی کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طیارے کے فلائٹ کنٹرول سسٹم میں کوئی سنگین خرابی پیدا ہوئی ہوگی۔ ان کے مطابق اگرچہ حتمی نتیجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا، تاہم انجن کی اچانک خرابی، حالیہ مرمت کے بعد تکنیکی نقص یا آزمائشی پرواز میں استعمال ہونے والے کسی نئے نظام کی ناکامی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ لاس اینجلس سے تقریباً 161 کلومیٹر دور واقع ایڈورڈز ایئرفورس بیس امریکی فوج کا سب سے اہم آزمائشی مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں جدید جنگی طیاروں، ہتھیاروں، دفاعی نظاموں اور سافٹ ویئرز کی جانچ کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی آزمائشی پروازوں میں عام فضائی سفر کے مقابلے میں خطرات کہیں زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں نئے یا تبدیل شدہ نظاموں کی کارکردگی کو حقیقی حالات میں پرکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حادثے نے امریکی دفاعی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read