Bharat Express DD Free Dish

incident

عوام سے افواہوں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فرضی ویڈیوز سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ پولیس نے لوگوں سے لوٹے گئے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد فوری طور پر پولیس یا قریبی سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں رات کے اندھیرے میں بلند شعلے اور آسمان تک اٹھتا سیاہ دھواں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیوز میں پورا علاقہ شعلوں کی لپیٹ میں نظر آ رہا ہے، جس سے اس سانحے کی ہولناکی واضح ہوتی ہے۔ 

فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے اور اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ یا تکنیکی خرابی کو ممکنہ سبب قرار دیا جا رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ  حتمی طور پر کچھ کہنا تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے زلزلے زمین کی سطح پر زیادہ شدت سے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بارہمولہ کے ساتھ ساتھ سری نگر، پلوامہ، شوپیاں اور چرارِ شریف سمیت آس پاس کے علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے واضح طور پر محسوس کیے گئے۔آزاد موسمی پورٹل کشمیر ویدر نے بھی اس زلزلے کی تصدیق کی ہے

دہلی پولیس کے ایک بیان کے مطابق 7 جنوری کو ترکمان گیٹ، رام لیلا میدان کے قریب فیض الہی مسجد کے آس پاس تجاوزات کے خلاف انہدامی کارروائی ہائی کورٹ کے حکم پر علی الصبح شروع کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق ان تمام زلزلوں کا مرکز بنیادی طور پر اُپلیٹا سے 27 سے 30 کلومیٹر مشرق-شمال مشرقی سمت میں واقع رہا۔ زلزلوں کی گہرائی زمین کی سطح سے 6.1 کلومیٹر سے لے کر 13.6 کلومیٹر کے درمیان ماپی گئی ہے۔

المیہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بچی کی موت کے بعد بھی اسپتال انتظامیہ نے لاش لے جانے کے لیے ایمبولینس فراہم نہیں کی۔ غریب والدین کے پاس نجی گاڑی کا انتظام کرنے کی سکت نہیں تھی، جس کے باعث انہیں اپنی معصوم بیٹی کی لاش موٹر سائیکل پر رکھ کر گاؤں واپس لے جانی پڑی۔

جاپان زلزلہ خیز خطے میں واقع ہونے کے باعث یہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں، قابل ذکر بات  یہ ہے کہ  حکام کی جانب سے اس تازہ زلزلے کے بعد مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔

فی الحال راحت کی بات یہ ہے کہ اس زلزلے کے باعث کسی جانی نقصان یا بڑے مالی خسارے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور آفاتِ سماوی سے نمٹنے والے ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں

آگ پر قابو پانے کے لیے کئی فائر ٹینڈر تعینات کیے گئے۔ فائر فائٹرز نے تقریباً آدھے گھنٹے کی مسلسل کوشش کے بعد شعلوں کو بجھایا۔ اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا، لیکن کچھ دیر تک علاقے میں گھنا دھواں چھایا رہا،