Bharat Express DD Free Dish

incident

خاندان کے مطابق بچی گزشتہ دو دن سے انتہائی نازک حالت میں آئی سی یو میں داخل تھی اور مسلسل بے ہوش پڑی رہی، مگر بار بار شکایت کرنے کے باوجود ڈاکٹروں نے مناسب توجہ نہیں دی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ علاج پر تقریباً 12 سے 14 لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود بچی کی جان نہ بچائی جا سکی۔

عینی شاہدین کے مطابق جب لواحقین نے مدد مانگی تو اسپتال کے کچھ ملازمین نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً خاندان کو انتہائی کرب اور بے بسی کی حالت میں یہ قدم اٹھانا پڑا۔

حادثے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید ناراضگی دیکھی گئی۔ مقامی رہائشی مہیش کمار نے کہا کہ اگرچہ بیگم پور پولیس اسٹیشن کے کچھ اہلکار موقع پر موجود تھے، لیکن ابتدا میں فائر بریگیڈ کی کوئی ٹیم وہاں نہیں پہنچی، جس کی وجہ سے امدادی کارروائی میں تاخیر ہوئی۔

عوام سے افواہوں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فرضی ویڈیوز سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ پولیس نے لوگوں سے لوٹے گئے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد فوری طور پر پولیس یا قریبی سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں رات کے اندھیرے میں بلند شعلے اور آسمان تک اٹھتا سیاہ دھواں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیوز میں پورا علاقہ شعلوں کی لپیٹ میں نظر آ رہا ہے، جس سے اس سانحے کی ہولناکی واضح ہوتی ہے۔ 

فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے اور اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ یا تکنیکی خرابی کو ممکنہ سبب قرار دیا جا رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ  حتمی طور پر کچھ کہنا تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے زلزلے زمین کی سطح پر زیادہ شدت سے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بارہمولہ کے ساتھ ساتھ سری نگر، پلوامہ، شوپیاں اور چرارِ شریف سمیت آس پاس کے علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے واضح طور پر محسوس کیے گئے۔آزاد موسمی پورٹل کشمیر ویدر نے بھی اس زلزلے کی تصدیق کی ہے

دہلی پولیس کے ایک بیان کے مطابق 7 جنوری کو ترکمان گیٹ، رام لیلا میدان کے قریب فیض الہی مسجد کے آس پاس تجاوزات کے خلاف انہدامی کارروائی ہائی کورٹ کے حکم پر علی الصبح شروع کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق ان تمام زلزلوں کا مرکز بنیادی طور پر اُپلیٹا سے 27 سے 30 کلومیٹر مشرق-شمال مشرقی سمت میں واقع رہا۔ زلزلوں کی گہرائی زمین کی سطح سے 6.1 کلومیٹر سے لے کر 13.6 کلومیٹر کے درمیان ماپی گئی ہے۔

المیہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بچی کی موت کے بعد بھی اسپتال انتظامیہ نے لاش لے جانے کے لیے ایمبولینس فراہم نہیں کی۔ غریب والدین کے پاس نجی گاڑی کا انتظام کرنے کی سکت نہیں تھی، جس کے باعث انہیں اپنی معصوم بیٹی کی لاش موٹر سائیکل پر رکھ کر گاؤں واپس لے جانی پڑی۔