Bharat Express DD Free Dish

incident

مقامی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائیوں اور تفتیش کے پیش نظر کرانس مونٹانا کے اوپر نو فلائی زون بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ سوئس نشریاتی ادارے آر ٹی ایس نے بتایا کہ دھماکہ بار کے بیسمنٹ میں ہوا، جس کی مجموعی گنجائش تقریباً 400 افراد کی بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے ترجمان گیٹن لاتھین نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکے کی وجہ فی الحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ متعدد ہلاکتوں کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔

حادثے کی خبر ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ آس پاس کے دیہات کے لوگ بھی بغیر کسی تاخیر کے امدادی کاموں میں شامل ہو گئے اور دشوار گزار پہاڑی علاقے تک پہنچنے میں حکام کی رہنمائی کی۔

راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’دہرادون میں اینجل چکما اور ان کے بھائی مائیکل کے ساتھ جو ہوا، وہ ایک بھیانک نفرت انگیز جرم ہے۔ نفرت راتوں رات پیدا نہیں ہوتی۔ اسے روزانہ، خاص طور پر ہمارے نوجوانوں کو، زہریلے مواد اور غیر ذمہ دارانہ مباحث کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ شمالی تنزانیہ میں واقع ماؤنٹ کلیمنجارو دنیا بھر کے سیاحوں اور کوہ پیماؤں کے لیے ایک بڑی کشش کا مرکز ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد اس پہاڑ کی بلندیوں تک پہنچنے اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں آتے ہیں،

اس سے قبل اپریل 2024 میں یہاں 7.4 شدت کا ایک تباہ کن زلزلہ آیا تھا، جو گزشتہ 25 برسوں میں سب سے طاقتور قرار دیا گیا۔ اس سانحے میں درجنوں افراد کی ہلا ک ہوگئے تھے اور کئی علاقوں میں شدید تباہی ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق یہ حادثہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً 12 بجے کے قریب پیش آیا۔ نجی سلیپر بس بنگلورو سے گوکرنہ جا رہی تھی، اسی دوران مخالف سمت سے آ رہے ٹرک نے زوردار ٹکر مار دی۔

ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ بسیں آگرہ سے نوئیڈا کی جانب جا رہی تھیں۔ اسی دوران گھنے کہرے کے باعث پیچھے سے آنے والی ایک کار آگے چل رہی بس سے ٹکرا گئی۔ اس کے بعد چین ری ایکشن کے تحت کل سات بسیں اور تین کاریں ایک دوسرے سے ٹکراتی چلی گئیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق طیارہ ایک فٹ بال گراؤنڈ پر لینڈ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم قریب ہی موجود ایک عمارت کی لوہے کی چھت سے ٹکرا گیا، جس کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی اور شعلے آس پاس کے علاقوں تک پھیل گئے۔

کینیڈا کے وائٹ ہارس میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی افسر کیلِستا میکلاؤڈ کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد ایمرجنسی کالز ملنی شروع ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ "جھٹکے بہت تیز محسوس ہوئے، سوشل میڈیا پر بھی لوگ بڑی تعداد میں بتا رہے ہیں کہ ان کے گھر ہل گئے۔"