نئی دہلی :بھارتی شہر کولکتہ میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں اور دفاتر سے نکل کر کھلی جگہوں پر جمع ہوگئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کا مرکز پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں واقع تھا۔ جھٹکے چند سیکنڈ تک محسوس کیے گئے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ بلند عمارتوں میں ان کی شدت زیادہ محسوس کی گئی۔ حکام کے مطابق اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں سے موصول اطلاعات کے مطابق زلزلے کے دوران گھروں میں فرنیچر اور چھت کے پنکھے ہلتے ہوئے دیکھے گئے۔ کئی دفتری عمارتوں میں ملازمین نے صورتحال کو بھانپتے ہی عمارتیں خالی کر دیں اور احتیاطاً کھلے میدانوں میں منتقل ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی متعدد ویڈیوز میں شہریوں کو خوف کے عالم میں عمارتوں سے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا، جو کولکتہ سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال کی جانب واقع بتایا جا رہا ہے۔
پچھلے چند مہینوں میں کئی جھٹکے
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کولکتہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہوں۔ گزشتہ چند مہینوں میں، ریاست میں ہلکے سے درمیانے درجے کی شدت کے کئی جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ زلزلہ زون 3 میں آتا ہے، اس لیے چوکنا رہنا ضروری ہے۔ فی الحال کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے لیکن لوگوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
زلزلہ کیسے آتا ہے؟
ماہرین کے مطابق زمین کے اندر موجود ٹیکٹونک پلیٹس مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں۔ جب یہ پلیٹس ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں، دور ہوتی ہیں یا آپس میں رگڑ کھاتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ اور توانائی جمع ہو جاتی ہے۔ دباؤ حد سے بڑھنے پر چٹانیں اچانک ٹوٹ جاتی ہیں یا سرک جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی لہروں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ جب یہ لہریں زمین کی سطح تک پہنچتی ہیں تو زمین لرزنے لگتی ہے اور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
