Earthquake tremors felt again in Hingoli: مہاراشٹر کے ہنگولی میں پھر محسوس کیے گئے زلزلے کے جھٹکے، شدت 2.9 ریکارڈ
اس سے قبل گزشتہ ماہ 26 ستمبر کو مہاراشٹر کے پال گھر ضلع میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق، اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔ زلزلہ رات 10 بج کر 33 منٹ اور 46 سیکنڈ پر آیا تھا، جبکہ اس کا مرکز زمین سے تقریباً 5 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
Earthquake In Afghanistan: افغانستان میں 5.3 شدت کے زلزلے سے خوف، اس سال کئی بار لرز چکی ہے زمین
افغانستان میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ جمعرات کی صبح آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.3 ریکارڈ کی گئی۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلہ صبح 06:59 بجے آیا۔ تاہم، اب تک اس زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
Earthquake in China amidst Nepal Flood: نیپال میں سیلاب کی تباہی کے درمیان چین میں زلزلہ، سچوان میں 5.1 شدت کے جھٹکے، 47 گلیشیئر جھیلوں کو خطرہ
نیپال کی بھوٹے کوشی ندی میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے، جبکہ 977 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ یہ سیلاب اس وقت آیا جب بھوٹے کوشی ندی کی معاون ندی ’لہینڈے‘ کا بہاؤ برفانی تودہ گرنے کے باعث رک گیا۔
Nepal Flood: گلیشیئر ٹوٹنے سے پھٹی دریا کی روانی یا زلزلے نے مچائی تباہی؟ نیپال میں آنے والے سیلاب کی کیا ہے اصل وجہ؟
نیپال اور تبت کی سرحد پر 26 اگست کو آنے والے شدید اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ پانی اور ملبے کے تیز بہاؤ نے سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ اس تباہی کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر اتنا بھیانک سیلاب آیا کیسے؟
Japan Earthquake: شمالی بحرالکاہل میں زلزلے کے شدید جھٹکے، ریکٹر اسکیل پر شدت 6.1، لرز اٹھے جاپان کے بڑے حصے
شمالی بحرالکاہل میں اتوار کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.1 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکوں سے جاپان کے کئی علاقوں میں زمین لرز اٹھی، جس کے بعد مقامی سطح پر لوگوں میں تشویش پھیل گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلہ سمندر میں آیا، جس کی وجہ سے اس کے اثرات جاپان کے مختلف حصوں تک محسوس کیے گئے۔
Japan Earthquake: جاپان میں 5.9 شدت کے زلزلے سے ٹوکیو سمیت کئی علاقوں میں شدید جھٹکے، لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلہ جنوبی ایباراکی صوبے میں آیا۔ زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 70 کلومیٹر کی گہرائی میں بتایا گیا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے ٹوکیو سمیت مشرقی جاپان کے متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ حکام کے مطابق زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی،
Colombia Earthquake: کولمبیا زلزلے کے ملبے میں 37 گھنٹے زندگی کی جنگ لڑنے والی ڈینییلا لارگو سانچیزکی ریسکیو کے بعد موت
ڈینییلالارگوسانچیز کی والدہ ساندرا میلینا پیریز نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ یہ سب کچھ جلد ختم ہو جائے۔ ان کے بیان سے اس خاندان کے دکھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جو پہلے اپنی بیٹی کے ملبے سے زندہ نکلنے پر خوشی منا رہا تھا، لیکن چند ہی دن بعد اسے کھو بیٹھا۔کولمبیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق امدادی کارکن اب بھی کم از کم 320 ایسے افراد کی تلاش کر رہے ہیں،
Myanmar Earthquake: میانمار میں 3.5 شدت کا زلزلہ، ملک میں پہلے بھی آچکے ہیں کئی بڑے زلزلے
ماہرین کے مطابق میانمار میں زلزلوں کی بڑی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت ہے۔ میانمار ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کئی فعال ارضیاتی پلیٹیں اور فالٹس ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں۔ ہندوستانی پلیٹ مسلسل شمال مشرق کی سمت حرکت کرتے ہوئے یوریشیائی پلیٹ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس حرکت کے نتیجے میں زمین کی اندرونی تہوں میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔جب یہ دباؤ ایک خاص حد تک پہنچنے کے بعد اچانک خارج ہوتا ہے تو زمین کی سطح پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔
India extends helping hand to Colombia: ہندوستان نے زلزلہ متاثرہ کولمبیا کی جانب مدد کا بڑھایا ہاتھ، امدادی سامان کی پہلی کھیپ روانہ
امداد میں ادویات، طبی آلات، عارضی رہائش کے لیے ضروری سامان، صفائی ستھرائی سے متعلق اشیا اور قدرتی آفت کے بعد درکار دیگر ضروری سامان شامل ہیں۔ جے شنکر نے کہا کہ بھارت اس مشکل گھڑی میں کولمبیا کے عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
Powerful earthquake strikes Colombia: کولمبیا میں 7.4 شدت کے زلزلے نے مچائی تباہی، 132 افراد ہلاک، 1500 سے زائد مکانات تباہ
زلزلے کا مرکز چوکو خطے میں بتایا گیا ہے، جو کولمبیا کے غریب اور طویل عرصے سے نظرانداز کیے جانے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ خطہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے بھی متاثر رہا ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مزید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔علاقے کا دشوار گزار جغرافیہ بھی ریسکیو ٹیموں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔





