Bharat Express DD Free Dish

Earthquake

نیپال کی بھوٹے کوشی ندی میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے، جبکہ 977 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ یہ سیلاب اس وقت آیا جب بھوٹے کوشی ندی کی معاون ندی ’لہینڈے‘ کا بہاؤ برفانی تودہ گرنے کے باعث رک گیا۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر 26 اگست کو آنے والے شدید اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ پانی اور ملبے کے تیز بہاؤ نے سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ اس تباہی کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر اتنا بھیانک سیلاب آیا کیسے؟

شمالی بحرالکاہل میں اتوار کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.1 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکوں سے جاپان کے کئی علاقوں میں زمین لرز اٹھی، جس کے بعد مقامی سطح پر لوگوں میں تشویش پھیل گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلہ سمندر میں آیا، جس کی وجہ سے اس کے اثرات جاپان کے مختلف حصوں تک محسوس کیے گئے۔

جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلہ جنوبی ایباراکی صوبے میں آیا۔ زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 70 کلومیٹر کی گہرائی میں بتایا گیا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے ٹوکیو سمیت مشرقی جاپان کے متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ حکام کے مطابق زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی،

ڈینییلالارگوسانچیز کی والدہ ساندرا میلینا پیریز نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ یہ سب کچھ جلد ختم ہو جائے۔ ان کے بیان سے اس خاندان کے دکھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جو پہلے اپنی بیٹی کے ملبے سے زندہ نکلنے پر خوشی منا رہا تھا، لیکن چند ہی دن بعد اسے کھو بیٹھا۔کولمبیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق امدادی کارکن اب بھی کم از کم 320 ایسے افراد کی تلاش کر رہے ہیں،

ماہرین کے مطابق میانمار میں زلزلوں کی بڑی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت ہے۔ میانمار ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کئی فعال ارضیاتی پلیٹیں اور فالٹس ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں۔ ہندوستانی پلیٹ مسلسل شمال مشرق کی سمت حرکت کرتے ہوئے یوریشیائی پلیٹ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس حرکت کے نتیجے میں زمین کی اندرونی تہوں میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔جب یہ دباؤ ایک خاص حد تک پہنچنے کے بعد اچانک خارج ہوتا ہے تو زمین کی سطح پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔

امداد میں ادویات، طبی آلات، عارضی رہائش کے لیے ضروری سامان، صفائی ستھرائی سے متعلق اشیا اور قدرتی آفت کے بعد درکار دیگر ضروری سامان شامل ہیں۔ جے شنکر نے کہا کہ بھارت اس مشکل گھڑی میں کولمبیا کے عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

زلزلے کا مرکز چوکو خطے میں بتایا گیا ہے، جو کولمبیا کے غریب اور طویل عرصے سے نظرانداز کیے جانے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ خطہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے بھی متاثر رہا ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مزید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔علاقے کا دشوار گزار جغرافیہ بھی ریسکیو ٹیموں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

کولمبیا کے نیشنل یونٹ فارڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یواین جی آرڈی) کے مطابق، زلزلے کا مرکز بوگوٹا سے 400 کلو میٹر مغرب میں سان ہوزے ڈیل پالمر کے قریب بتایا گیا ہے۔

ادارے نے بتایا کہ مختلف علاقوں سے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے نمائندوں نے بھی دارالحکومت قاہرہ میں ہلکے جھٹکے محسوس کیے، تاہم کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔زلزلے کے فوراً بعد مصر کے وزیر صحت و آبادی خالد عبدالغفار نے ملک بھر میں ہنگامی طبی منصوبہ فوری طور پر نافذ کرنے کی ہدایت دی۔