نئی دہلی : فلپائن کے ایک چھوٹے سے جزیرے میں لگنے والی خوف ناک آگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار گھر جل کر خاک ہو گئے اور تقریباً پانچ ہزار افراد بے گھر ہو گئے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے میں افراتفری اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی۔ سرکاری خبر رساں ادارے پی این اے کے مطابق، آگ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے بارنگائے لامیان نامی علاقے میں بھڑکی۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ لگ بھگ چار گھنٹے تک بے قابو انداز میں دھکتی رہی۔ تیز ہواؤں نے شعلوں کو مزید بھڑکایا، جس کے باعث آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے گنجان آبادی والے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
A massive fire swept through a village in Bongao, southern Philippines, displacing at least 5,000 people. The blaze broke out on Tuesday and raged for nearly four hours, destroying some 1,000 homes, according to state news agency PNA. pic.twitter.com/aPcNazXPuw
— Al Jazeera English (@AJEnglish) February 4, 2026
یہ علاقہ ایک چھوٹے جزیرے پر واقع ہے، جہاں زیادہ تر مکانات پانی کے اوپر لکڑی کے کھمبوں پر بنے ہوئے تھے۔ گھروں کی تعمیر میں لکڑی، بانس اور ناریل کے پتوں جیسے ہلکے اور آتش گیر مواد کا استعمال کیا گیا تھا۔ مکانات ایک دوسرے کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے آگ تیزی سے ایک گھر سے دوسرے گھر تک پھیلتی چلی گئی، جس نے چند ہی گھنٹوں میں پوری بستی کو تباہ کر دیا۔آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں رات کے اندھیرے میں بلند شعلے اور آسمان تک اٹھتا سیاہ دھواں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیوز میں پورا علاقہ شعلوں کی لپیٹ میں نظر آ رہا ہے، جس سے اس سانحے کی ہولناکی واضح ہوتی ہے۔ اس آگ کے نتیجے میں ہزاروں خاندان اپنے گھروں، سامان اور روزمرہ کی بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے۔ متاثرہ افراد کو جان بچانے کے لیے اپنے گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اس وقت بڑی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
WATCH | NEWS UPDATE: Personnel of the Philippine Coast Guard Tawi-Tawi assist in rescuing residents affected by a fire that broke out in Barangay Lamion, Bongao town evening on February 3, 2026.
| Courtesy: Coast Guard Station Central Tawi Tawi via Efren Mamac, One Mindanao pic.twitter.com/6egegDE48g
— GMA Regional TV News (@GMARTVNews) February 4, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ساحلی اور جزیرہ نما علاقوں میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کا پہنچنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں تاخیر ہوتی ہے۔ تنگ گلیاں، پانی پر قائم بستیاں اور ہلکے تعمیراتی مواد آگ کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر بجلی کے شارٹ سرکٹ یا کسی لاپرواہی کو ممکنہ وجہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر ابھی کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔مقامی حکومت اور امدادی ادارے متاثرہ خاندانوں کو خوراک، پانی، کپڑے اور عارضی رہائش فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق، متاثرین کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کا عمل طویل اور مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ ہزاروں افراد سب کچھ کھو چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

