Bharat Express DD Free Dish

Massive Fire

ہوٹلوں میں آگ لگنے کے واقعات نے فائر سیفٹی کے انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں بھی ایک ہوٹل میں آگ لگنے کا بڑا حادثہ پیش آچکا ہے، جس میں 21 افراد کی جان چلی گئی تھی۔ اس طرح کے واقعات کے بعد ہوٹلوں اور دیگر تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کی جانچ اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔

بلجیم کے ہائی فینس کے جنگلات میں لگی شدید آگ نے صبح تک تقریباً 3 ہزار ہیکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسے ملک کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی جنگلاتی آگ قرار دیا جا رہا ہے۔ آگ کے باعث کئی علاقوں میں دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے ہیں، جبکہ متعدد مقامات پر آگ کے شعلے اب بھی بھڑک رہے ہیں۔

دہلی کے ادیوگ بھون کے قریب واقع جھگی بستی میں خوفناک آگ لگنے سے درجنوں عارضی مکانات جل کر خاکستر ہو گئے، تاہم بروقت کارروائی کے باعث لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر لیا گیا۔ مسلسل پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات نے دہلی سمیت دیگر شہروں میں فائر سیفٹی، غیر قانونی بجلی کنکشنز اور گنجان آبادی والی بستیوں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مالویہ نگر کے فلوریس اسٹے ہوٹل میں ہوئی آتشزدگی کے بعد 39 افراد کو میکس اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 18 افراد کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ متعدد زخمی مریض انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) اور وینٹی لیٹر سپورٹ پر زیرِ علاج ہیں۔

اس دوران آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی کوٹہ ریلوے ڈویژن سے راحت، بچاؤ اور تکنیکی ٹیموں کو فوری طور پر جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا۔ احتیاطی اقدام کے طور پر، ٹرین کی برقی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے، اور سینئر حکام فی الحال موقع پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں منزل کے کل چھ فلیٹس اس آگ کی لپیٹ میں آئے۔ صبح تقریباً 10:45 بجے تک آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا تھا، تاہم متاثرہ فلیٹس کا بیشتر سامان جل کر خاک ہو چکا ہے۔ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آگ ممکنہ طور پر ایئر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔

دہلی کے نیچر بازار میں، جو اندھیریا موڑ کے قریب واقع ہے، اتوار کی صبح بھیانک آتشزدگی سے تقریباً 50 دکانیں جل کر راکھ ہو گئیں۔ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 10 گاڑیوں نے کئی گھنٹوں کی سخت محنت کے بعد شعلوں پر قابو پایا۔ تاہم آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے اور معاملہ جانچ کے دائرے میں ہے۔

الور کے خوشکھیڑا صنعتی علاقے میں واقع ایک بند گتے کی فیکٹری میں بھیانک آتشزدگی سے 7 مزدوروں کی موت ہو گئی۔ زور دار دھماکوں کے درمیان ریسکیو آپریشن جاری ہے، جبکہ مزید کئی مزدوروں کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں رات کے اندھیرے میں بلند شعلے اور آسمان تک اٹھتا سیاہ دھواں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیوز میں پورا علاقہ شعلوں کی لپیٹ میں نظر آ رہا ہے، جس سے اس سانحے کی ہولناکی واضح ہوتی ہے۔ 

واقعے کے بعد بس ٹرمینل کے احاطے میں بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ڈرائیور، کنڈکٹر اور مسافر ادھر اُدھر بھاگتے نظر آئے۔ مقامی لوگ بھی آگ بجھانے کی کوششوں میں لگ گئے اور پانی و دیگر دستیاب وسائل کے ذریعے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔