Bharat Express DD Free Dish

incident

عینی شاہدین کے مطابق آگ چند ہی منٹوں میں ایک جھگی سے دوسری جھگی تک پھیلتی چلی گئی۔ مقامی لوگوں نے ابتدائی طور پر خود آگ بجھانے کی کوشش کی، لیکن شعلوں کی شدت کے سامنے ان کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

28 سالہ آفتاب رفیق شیخ، جو کورئیر ڈلیوری کا کام کرتے ہیں، انہو ں نے الزام لگایا کہ پولیس کارروائی کے دوران ان کی بہن زخمی ہو گئی۔  احتجاج کے دوران حالات بگڑنے کے بعد پولیس کارروائی میں ان کے خاندان کو بھی نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ وہ احتجاج میں شامل نہیں تھے ،

شکاگو میں قائم بھارتی قونصل خانے نے طالبہ کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ قونصل خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ شکاگو کے قریب پیش آنے والے سڑک حادثے میں بھارتی طالبہ نویا گڈوسو کی موت کی خبر انتہائی افسوسناک ہے

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ شروع ہوتے ہی علاقے میں چیخ و پکار مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ حملہ آور واردات کے فوراً بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں

اس دوران آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی کوٹہ ریلوے ڈویژن سے راحت، بچاؤ اور تکنیکی ٹیموں کو فوری طور پر جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا۔ احتیاطی اقدام کے طور پر، ٹرین کی برقی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے، اور سینئر حکام فی الحال موقع پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق خاتون کو معمولی چوٹیں آئی ہیں، تاہم خوش قسمتی سے تمام افراد محفوظ رہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کئی یوزر نے ماں کی جرأت اور بچوں کے لیے اس کی قربانی کے جذبے کی تعریف کی،

حکام کے مطابق تقریباً 30 فیصد طیارے رن وے پر جب کہ 70 فیصد ٹیکسی وے پر کھڑے رہے، جس کی وجہ سے تمام ملکی اور بین الاقوامی پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں۔رپورٹس کے مطابق طیارے میں مجموعی طور پر 288 افراد سوار تھے،

عینی شاہدین کے مطابق پل کا ایک حصہ اس وقت اچانک منہدم ہو گیا جب اس کی مرمت کا کام جاری تھا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسی دوران ایک گاڑی کے گزرنے سے ڈھانچہ کمزور ہو کر گر گیا، جس کے باعث مزدور ملبے تلے دب گئے۔

حادثے کے عینی شاہدین نے اس واقعے کو انتہائی خوفناک قرار دیا۔ ایک مسافر سوسان ساریفہ نے بتایا کہ وہ روزمرہ کے معمول کے مطابق کام سے گھر واپس آ رہی تھیں اور ان کی ٹرین بیکاسی تیمور اسٹیشن پر رکی ہوئی تھی کہ اچانک دوسری ٹرین آ کر اس سے ٹکرا گئی۔

سپریم کورٹ نے اپنے احکامات کی نقول تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز اور ڈی جی پیز کو فوری عمل درآمد کے لیے بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے دو ماہ بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت مقرر کی ہے تاکہ عمل درآمد کی رپورٹ کا جائزہ لیا جا سکے۔