نئی دہلی : دہلی کے بیرونی شمالی ضلع کے علی پور تھانہ علاقے میں اتوار کی شام ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں ہیرنکی گاؤں کے قریب ٹھوکر نمبر 24 کے پاس یمناندی میں نہاتے ہوئے چارنابالغ لڑکے تیز بہاؤ کی زد میں آ کر لاپتہ ہو گئے۔ واقعے کے بعد دہلی فائر سروس، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) اور مقامی پولیس نے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا، قابل ذکر بات یہ کہ اب تک کسی بھی بچے کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔پولیس کے مطابق اتوار کی شام تقریباً 7 بج کر 46 منٹ پر چار بچوں کےیمنا ندی میں ڈوبنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پانچ نابلغ لڑکے نہانے کے لیے ٹھوکر نمبر 24 کے قریب جمنا ندی پر گئے تھے۔
نہانے کے دوران ندی کا بہاؤ اچانک انتہائی تیز ہو گیا، جس کے باعث 15 سالہ راہل، انشو، سوربھ اور امن دیپ گہرے پانی میں چلے گئے اور تیز بہاؤ میں پھنس کر ڈوب گئے۔ پانی کا بہاؤ اتنا شدید تھا کہ چاروں بچوں کو سنبھلنے یا کنارے تک واپس آنے کا موقع نہیں ملا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ندی میں غائب ہو گئے۔واقعے کے وقت 14 سالہ لکی نامی لڑکا کنارے پر موجود تھا۔ اس نے بچوں کو ڈوبتے دیکھ کر شور مچایا اور مدد کے لیے آواز لگائی۔ قریبی کھیتوں میں کام کر رہے افراد فوری طور پر موقع پر پہنچے اور بچوں کو بچانے کی کوشش کی، لیکن اس وقت تک چاروں نابالغ ندی کی موجوں میں بہہ چکے تھے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی این ڈی آر ایف، دہلی فائر سروس، ڈی ڈی ایم اے اور مقامی پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ اتوار کو کئی گھنٹوں تک سرچ آپریشن جاری رہا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ رات کے وقت اندھیرا ہونے اور پانی میں حد نگاہ کم ہونے کے باعث تقریباً ساڑھے دس بجے آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا۔پیر کی صبح دوبارہ امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور غوطہ خوروں کے ساتھ مختلف ایجنسیاں بچوں کی تلاش میں مصروف ہیں، لیکن خبر لکھے جانے تک کسی بھی لاپتہ بچے کا سراغ نہیں مل سکا تھا۔
علی پور تھانے کی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ بچوں کی تلاش اولین ترجیح ہے، انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ بارش کے موسم میں ندیوں اور آبی ذخائر کے قریب جانے سے گریز کریں، کیونکہ تیز بہاؤ کے باعث اس طرح کے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
