Bharat Express DD Free Dish

NDRF

بہار میں ستمبر کے دوران اب تک معمول سے 31 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ دو دن ریاست کے کچھ حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش جبکہ بعض مقامات پر تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر انتظامیہ اور محکمہ موسمیات نے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ خاص طور پر ان افراد سے جو اب بھی ندیوں کے کنارے یا سیلاب کے خطرے والے علاقوں میں موجود ہیں،

انتظامیہ نے خاص طور پر بچوں اور خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی کے پانی کے قریب نہ جائیں اور نہانے یا کھیلنے سے گریز کریں۔ میونسپل کارپوریشن کو پانی جمع ہونے والے علاقوں میں پمپ کا انتظام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کٹھمنڈو میں بھارتی سفارتخانے نے بھی کہا کہ بھارتی ٹنل ریسکیو ٹیم نے نیپالی فوج کی ٹیم کے ساتھ مل کر چلیمی اور لنگ ٹانگ کے علاقوں میں آبی بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں انجام دیں۔ سفارتخانے کے مطابق بھارتی ٹیم نیپالی فوج کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھے گی۔ 

اتر پردیش کی صورتحال پر بھی ریاستی حکومت کی جانب سے قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ گنڈک ندی سے قربت کے باعث کشی نگر ضلع کے متاثر ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر وہاں این ڈی آر ایف کی ایک اضافی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔

حادثے کے 24 گھنٹے سے زیادہ گزرنے کے باوجود جب متھن کا کوئی سراغ نہیں ملا تو اہل خانہ اور مقامی لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ لوگوں نے سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک روک دی اور بچے کو جلد تلاش کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک متھن نہیں ملتا، ان کی بے چینی اور غصہ ختم نہیں ہوگا۔

اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس(ایس ڈی آر ایف) ، پولیس اور ضلع انتظامیہ کی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ امدادی اہلکار سرنگ کے اندر موجود ملبہ اور پانی نکالنے کے ساتھ لاپتہ مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 30 جولائی کی رات عمارت میں معمولی جھکاؤ محسوس کیا گیا تھا۔ یہ دیکھتے ہی وہاں مرمت کا کام کر رہے متعدد مزدور باہر نکل آئے۔ چونکہ عمارت میں مرمتی کام چل رہا تھا، اس لیے حادثے کے وقت زیادہ تر افراد عمارت سے باہر موجود تھے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی این ڈی آر ایف، دہلی فائر سروس، ڈی ڈی ایم اے اور مقامی پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ اتوار کو کئی گھنٹوں تک سرچ آپریشن جاری رہا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ رات کے وقت اندھیرا ہونے اور پانی میں حد نگاہ کم ہونے کے باعث تقریباً ساڑھے دس بجے آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا

ہریانہ کے امبالہ میں 4 سالہ معصوم نربھے 220 فٹ گہرے کھلے بورویل میں گر گیا تھا۔ بچے کو بچانے کے لیے فوج، این ڈی آر ایف اور دیگر ریسکیو ٹیموں نے مسلسل 21 گھنٹے تک بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن چلایا، لیکن تمام کوششیں ناکام رہیں۔ بورویل سے نکالنے کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا۔

کنواں پانی سے بھرا ہوا تھا، جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں کافی مشکلات پیش آئیں۔ نصف شب کے قریب دو کرینوں کی مدد سے کار کو کنویں سے باہر نکالا گیا۔ اس حادثے میں کار سے آٹھ افراد کی لاشیں نکالی گئیں، جبکہ کنویں میں ڈوبی ایک بچی کی تلاش کے لیے خصوصی سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔