Bharat Express DD Free Dish

Chamoli Tunnel Accident: چمولی ٹنل حادثے میں 7 مزدوروں کی موت، دو لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری

اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس(ایس ڈی آر ایف) ، پولیس اور ضلع انتظامیہ کی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ امدادی اہلکار سرنگ کے اندر موجود ملبہ اور پانی نکالنے کے ساتھ لاپتہ مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں جمعرات کو ایک زیر تعمیر سرنگ میں اچانک پانی اور ملبہ داخل ہونے سے بڑا حادثہ پیش آیا۔ پیپل کوٹی علاقے میں ٹہری ہائیڈرو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ٹی ایچ ڈی سی)کے منصوبے کی سائٹ پر پیش آنے والے اس حادثے میں سرنگ کے اندر کام کر رہے 22 مزدور پھنس گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے 20 مزدوروں کو باہر نکال لیا ہے، جن میں سے 7 کی موت ہوچکی ہے جبکہ دیگر زخمی ہیں۔ دو مزدوروں کی تلاش اب بھی جاری ہے۔حادثے کے فوراً بعد نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) ، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس(ایس ڈی آر ایف) ، پولیس اور ضلع انتظامیہ کی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ امدادی اہلکار سرنگ کے اندر موجود ملبہ اور پانی نکالنے کے ساتھ لاپتہ مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حکام کے مطابق حادثہ 13 اگست کو پیپل کوٹی علاقے میں واقع ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی زیر تعمیر سرنگ میں پیش آیا۔ اچانک بڑی مقدار میں پانی اور ملبہ سرنگ میں داخل ہوگیا، جس کے باعث وہاں کام کر رہے مزدور پھنس گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور مزدوروں کو باہر نکالنے کا کام شروع کیا۔

حادثے میں زخمی ہونے والے مزدوروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں چھتیس گڑھ کے کونڈاگاؤں کے رہائشی سنیل دیوان اور پین سنگھ، جھارکھنڈ کے ہابیل گڑیا، نِستار بھنگرا، ونود ساونا، دینا بیگرا اور کھیلا رام بسرا، پنجاب کے چھبا سنگھ، ہماچل پردیش کے تلک راج، جبکہ بہار کے چندن کمار، اودھیش، نندلال اور روہت پانڈے سمیت دیگر مزدور شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق گووند نامی مزدور کو ابتدائی علاج کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے، جبکہ روہت پانڈے کو بہتر علاج کے لیے سری نگر ریفر کیا گیا ہے۔ دیگر زخمی مزدوروں کا گوپیشور ضلع اسپتال میں علاج جاری ہے۔ یہ تمام مزدور سرنگ کی تعمیر کے کام میں مصروف تھے کہ اچانک پانی داخل ہونے سے حادثہ پیش آیا۔

حکام نے بتایا کہ سرنگ میں مجموعی طور پر 22 مزدور پھنسے تھے۔ ان میں سے 20 کو باہر نکالا جاچکا ہے، تاہم 7 مزدوروں کی جان نہیں بچائی جاسکی۔ باقی زخمی مزدوروں کا علاج جاری ہے جب کہ دو افراد کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ان دونوں مزدوروں کی تلاش میں مسلسل مصروف ہیں۔حادثے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی بھی چمولی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ وہ جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں اور حالات کا جائزہ لیں گے۔ انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read