Bharat Express DD Free Dish

Fifteen Years old boy, Mithun : پتنگ لوٹنے کے چکر میں کھلے نالے میں گرا 15 سالہ متھن، ماں کی آنکھوں سے نہیں رک رہے ہیں آنسو نہیں

حادثے کے 24 گھنٹے سے زیادہ گزرنے کے باوجود جب متھن کا کوئی سراغ نہیں ملا تو اہل خانہ اور مقامی لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ لوگوں نے سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک روک دی اور بچے کو جلد تلاش کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک متھن نہیں ملتا، ان کی بے چینی اور غصہ ختم نہیں ہوگا۔

نئی دہلی : دہلی کے جسولا علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جہاں پتنگ لوٹنے کی کوشش میں 15 سالہ متھن کھلے نالے میں بہہ گیا۔ واقعے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس، یعنی این ڈی آر ایف کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور غوطہ خوروں کی مدد سے بچے کی تلاش شروع کی گئی۔ تاہم کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود متھن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ بچے کے لاپتہ ہونے کے بعد اس کے اہل خانہ شدید صدمے میں ہیں۔متھن کے والد اودھیش کمار نے بتایا کہ ان کا بیٹا گزشتہ روز صبح تقریباً 11 بجے نالے میں گر گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ متھن کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان ہے اور وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بچہ کس طرح نالے میں گرا، تاہم واقعے کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔ والد نے بتایا کہ نالہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہے اور حادثے کے بعد این ڈی آر ایف کی ٹیم اور غوطہ خور موقع پر پہنچے۔

بیٹے کی تلاش میں ماں کا برا حال

متھن کے نہ ملنے کے باعث اس کی ماں کا رو رو کر برا حال ہے۔ وہ مسلسل اپنے بیٹے کی واپسی کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔ غم سے نڈھال ماں بار بار ایک ہی اپیل کرتی نظر آئیں کہ ’’میرا بچہ مجھے لا کر دے دو۔‘‘ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے اور وہ ہر لمحے متھن کی خیریت کی دعا کر رہے ہیں۔

24 گھنٹے بعد سڑک پر اترا غصہ

حادثے کے 24 گھنٹے سے زیادہ گزرنے کے باوجود جب متھن کا کوئی سراغ نہیں ملا تو اہل خانہ اور مقامی لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ لوگوں نے سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک روک دی اور بچے کو جلد تلاش کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک متھن نہیں ملتا، ان کی بے چینی اور غصہ ختم نہیں ہوگا۔

ریسکیو آپریشن پر اہل خانہ نے اٹھائے سوال

متھن کی والدہ نے الزام عائد کیا کہ موقع پر غوطہ خور پہنچے تھے، لیکن انہوں نے نالے کے پانی میں اتر کر بچے کی تلاش نہیں کی۔ اہل خانہ نے سوال اٹھایا کہ جب بچہ نالے میں بہہ گیا تھا تو اسے تلاش کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ تاہم غوطہ خوروں کے حوالے سے اہل خانہ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔متھن کے بھائی دھرمیندر نے میڈیا سے گفتگو میں نظام پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم غریب ہیں، اس لیے ہماری مدد نہیں ہوئی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ 24 گھنٹے سے زیادہ گزرنے کے باوجود مقامی کونسلر، رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ میں سے کوئی بھی اہل خانہ سے ملنے نہیں پہنچا۔

بڑی مشینوں سے تلاش کی تیاری

این ڈی آر ایف ذرائع کے مطابق بچے کی تلاش کے لیے جسمانی طور پر ممکن حد تک کوشش کی جاچکی ہے، لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ملی۔ حادثے کو تقریباً 26 گھنٹے گزر چکے تھے اور ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روکا گیا، جس کے بعد بڑی مشینوں کی مدد سے نالے میں تلاش کا عمل آگے بڑھانے کی تیاری کی گئی۔اس حادثے نے کھلے نالوں کی حفاظت اور انتظامیہ کی ذمہ داری پر بھی کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ رہائشی علاقے کے قریب اتنا بڑا نالہ بغیر حفاظتی انتظامات کے کیوں کھلا چھوڑا گیا؟ حادثے سے پہلے وہاں حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ یہ سوال اب اہل خانہ اور مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے سامنے بھی ہیں۔ متھن کا خاندان فی الحال صرف اپنے بچے کی بحفاظت واپسی کا منتظر ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read