Bharat Express DD Free Dish

Floods

فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے وقت میں انسانی زندگی پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ گزشتہ تقریباً 100 برسوں میں ماحول میں CO2 کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جیسے فوسل فیول کا مسلسل استعمال ہے۔

بہار میں ستمبر کے دوران اب تک معمول سے 31 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ دو دن ریاست کے کچھ حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش جبکہ بعض مقامات پر تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر انتظامیہ اور محکمہ موسمیات نے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ خاص طور پر ان افراد سے جو اب بھی ندیوں کے کنارے یا سیلاب کے خطرے والے علاقوں میں موجود ہیں،

جموں و کشمیر کے سیاسی تجزیہ کار رشید راحیل نے ’آپریشن سندور‘ کے بعد سندھ طاس معاہدہ روکنے کے ہندوستان کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ معاہدے کی منسوخی کا پہلا اثر جموں و کشمیر اور لداخ پر پڑے گا۔

سیلاب سے ریاست میں زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکام کے مطابق 10,748.64 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 47 ہزار سے زیادہ مویشی بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں،

وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت مل کر متاثرین کے لیے ایک جامع بحالی پیکیج تیار کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسی قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پڑوسی ریاستوں کے ساتھ مل کر بہتر آبی انتظام اور سیلاب سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر بھی کام کیا جائے گا۔

محکمۂ موسمیات (IMD) کے مطابق خلیجِ بنگال میں بننے والا کم دباؤ کا نظام آئندہ 48 سے 60 گھنٹوں کے دوران ملک کی کئی ریاستوں میں موسلا دھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش اور پہاڑی ریاستوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ دہلی-این سی آر میں حبس اور نمی والا موسم برقرار رہنے کا امکان ہے۔

لوگ زیر آب مکانوں کی چھتوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ چھتوں پر موجود افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مقامی اطلاعات کے مطابق علاقے کے کئی حصوں میں گزشتہ تین دنوں میں 150 سینٹی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی ہے۔

ویتنام کے وسطی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 35 افراد ہلاک ہو گئے۔ 5 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور 60 دیگر زخمی ہیں۔ سیلابی پانی میں تقریباً 60 مکانات بہہ گئے یا نقصان کا شکار ہوئے۔

مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس کے مطابق اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں اور تاخیر کے لیے اضافی وقت دیں۔ مسافروں کو ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہونے سے پہلے ایئر لائن کی ایپ یا ویب سائٹ کے ذریعے باقاعدگی سے اپنی پرواز کا اسٹیٹس چیک کرنا چاہیے۔

ہماچل پردیش میں حالیہ دنوں میں کئی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے، جن سے جانی و مالی نقصان ہوا۔ دوسری جانب پنجاب میں شدید بارش نے نشیبی علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا کر دی ہے۔