Bharat Express DD Free Dish

Flood Relief

’دی کٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق راسوا اور اس سے ملحقہ اضلاع میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال کی حکومت نے باضابطہ طور پر قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کے مختلف علاقوں کو تین ماہ کے لیے بحران زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔

اتر پردیش کی صورتحال پر بھی ریاستی حکومت کی جانب سے قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ گنڈک ندی سے قربت کے باعث کشی نگر ضلع کے متاثر ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر وہاں این ڈی آر ایف کی ایک اضافی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔

نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق متاثرہ علاقوں سے مجموعی طور پر 384 مسافروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں 291 غیر ملکی شہری اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔ نیپال ٹورزم بورڈ کی ’’لاپتہ افراد‘‘ کی فہرست میں ہمالیئن گلیشیئر علاقے سے 37 غیر مقیم ہندوستانیوں کے لاپتہ ہونے کا بھی ذکر ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں ہندوستان ’’نیپال میں اپنے بہن بھائیوں‘‘ کے ساتھ مضبوطی سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کی ٹیمیں بچاؤ اور راحت رسانی کی کوششوں میں قریبی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

معلومات کے مطابق یہ پہل مشترکہ مہم ’آشیانہ‘ کے تحت شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد ان خاندانوں کو محفوظ چھت فراہم کرنا ہے جو سیلاب کے باعث بے گھر ہوگئے ہیں۔ گھروں کی تعمیر بانس اور ٹین کی چادروں سے کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں آنے والے سیلاب کے دوران نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس وقت 224 ریلیف کیمپوں میں 73 ہزار 74 بے گھر افراد کو پناہ دی جا رہی ہے، جبکہ 1,844 ریلیف تقسیم مراکز کے ذریعے متاثرین کو ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر 29 ہزار 985 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت مل کر متاثرین کے لیے ایک جامع بحالی پیکیج تیار کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسی قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پڑوسی ریاستوں کے ساتھ مل کر بہتر آبی انتظام اور سیلاب سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر بھی کام کیا جائے گا۔

 فوج نے کہا ہے کہ بچاؤ مہم جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی وسائل بھی فوری طور پر تعینات کیے جائیں گے۔ فوج نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران ملک کے عوام کے ساتھ کھڑا رہنا اس کی ذمہ داری ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔