نئی دہلی: نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور گنڈک ندی کے راستے سیلابی لہر کے نچلے علاقوں کی جانب بڑھنے کے امکان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ این ڈی آر ایف کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بہار اور اتر پردیش کے حساس علاقوں میں ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) کی ایڈوائزری اور میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال میں فرکے کھولا کے مقام پر تریشولی ندی میں پانی کی سطح اچانک بڑھنے کی اطلاع ملی ہے۔ یہ مقام ہندوستانی سرحد سے تقریباً 160 کلومیٹر دور ہے۔ پانی کی سطح میں اس اچانک اضافے کی وجہ نیپال-چین سرحد کے قریب ممکنہ گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) سرگرمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
گنڈک ندی میں سیلابی لہر کا خدشہ
ریلیز کے مطابق سیلابی لہر کے گنڈک ندی میں نچلے علاقوں کی جانب بڑھنے کا امکان ہے۔ گنڈک ندی کے ساتھ نیپال-ہندوستان سرحد کے قریب بہار اور اتر پردیش کے مقامی حکام کو الرٹ رہنے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نیپال میں اچانک سیلاب کے واقعے کے پیش نظر گنڈک ندی میں متوقع سیلاب کو دیکھتے ہوئے این ڈی آر ایف ہائی الرٹ پر ہے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نے خصوصاً گنڈک ندی کے آس پاس کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد این ڈی آر ایف کی دو ٹیمیں مغربی چمپارن اور مظفرپور میں تعیناتی کے لیے روانہ کی گئی ہیں۔ ریلیز کے مطابق بہار میں مجموعی طور پر این ڈی آر ایف کی نو ٹیمیں تعینات ہیں۔ بہار حکومت صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے کی صورت میں این ڈی آر ایف کی مزید ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔ این ڈی آر ایف نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی ٹیموں کو بھی تیار رکھا گیا ہے۔
اتر پردیش میں بھی الرٹ، کشی نگر میں اضافی ٹیم تعینات
اتر پردیش کی صورتحال پر بھی ریاستی حکومت کی جانب سے قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ گنڈک ندی سے قربت کے باعث کشی نگر ضلع کے متاثر ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر وہاں این ڈی آر ایف کی ایک اضافی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔ اتر پردیش میں سیلاب کی وارننگ اور ریسپانس (FWR) آپریشنز کے لیے مجموعی طور پر 11 ٹیمیں تعینات ہیں۔ این ڈی آر ایف بہار اور اتر پردیش کی ریاستی حکومتوں اور مرکزی آبی کمیشن کے ساتھ قریبی تال میل میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ کسی بھی غیر متوقع صورتحال کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے اضافی ٹیموں کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

