Bihar on High Alert After Nepal Floods:نیپال-تبت سرحدپرگلیشیئر جھیل پھٹنے کے بعد بہارمیں ہائی الرٹ،بیراج اورپشتوں کی24گھنٹے نگرانی
نیپال سے آنے والے سیلابی پانی کو بغیر رکاوٹ نکالنے کے لیے گنڈک بیراج کے تمام 36 گیٹ کھول دیے گئے ہیں۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر کی قیادت میں ایک تکنیکی ٹیم بیراج پر مسلسل موجود ہے، جبکہ سارن پشتے سمیت دیگر حساس مقامات پر گشت بڑھا دیا گیا ہے۔
Nepal Flood: نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 579 ہوئی، 1,924 افراد اب بھی لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری، 320 بھارتی شہریوں سے اب تک نہیں ہوسکا رابطہ
متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار سرچ، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ قدرتی آفت 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب تبت-نیپال سرحد پر ایک تباہ کن اچانک سیلاب آیا۔
India dispatches relief material to Nepal: تباہ کن سیلاب سے نمٹنے کے لیے بھارت نے نیپال کو 10 ٹن امدادی سامان اور ضروری ادویات روانہ کیں، فضائیہ کا طیارہ سامان لے کر ہوا روانہ
’دی کٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق راسوا اور اس سے ملحقہ اضلاع میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال کی حکومت نے باضابطہ طور پر قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کے مختلف علاقوں کو تین ماہ کے لیے بحران زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔
Flash Flood in Nepal: نیپال میں اچانک سیلاب کی صورتحال پر این ڈی آر ایف الرٹ، گنڈک ندی میں سیلابی لہر کا خدشہ، بہار اور اتر پردیش کے حساس علاقوں میں ٹیمیں تعینات
اتر پردیش کی صورتحال پر بھی ریاستی حکومت کی جانب سے قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ گنڈک ندی سے قربت کے باعث کشی نگر ضلع کے متاثر ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر وہاں این ڈی آر ایف کی ایک اضافی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔
Assam Flood: آسام میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 87 ہوئی، 11.45 لاکھ سے زائد افراد متاثر، 25 اضلاع میں راحت اور بازآبادکاری کا عمل جاری
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس وقت 224 ریلیف کیمپوں میں 73 ہزار 74 بے گھر افراد کو پناہ دی جا رہی ہے، جبکہ 1,844 ریلیف تقسیم مراکز کے ذریعے متاثرین کو ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر 29 ہزار 985 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
Monsoon Mayhem Across India: ملک بھر میں مانسون کی تباہ کاریاں، آسام میں سیلاب سے ہلاکتیں 82 ہوئیں، کیرالہ میں 8 افراد جاں بحق، محکمۂ موسمیات کی مزید شدید بارش کی وارننگ
آسام میں سیلاب کی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ASDMA) کے مطابق یکم اگست تک سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 82 ہو گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق شیوساگر اور چرائی دیو اضلاع میں دو مزید افراد جان کی بازی ہار گئے۔
Worst Floods in Recent Years: حالیہ برسوں کا سب سے بھیانک سیلاب، 30 ہزار افراد بے گھر، وزیرداخلہ امت شاہ کا آسام کو مرکزی امداد کی یقین دہانی
وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت مل کر متاثرین کے لیے ایک جامع بحالی پیکیج تیار کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسی قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پڑوسی ریاستوں کے ساتھ مل کر بہتر آبی انتظام اور سیلاب سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر بھی کام کیا جائے گا۔
Building collapses in Pune: پونے کے پمپری چنچواڑ حادثے میں این ڈی آر ایف نے 6 افراد کو بحفاظت نکالا، شدید بارش کے بعد تین منزلہ عمارت پر گرا تھا کچرے کا بڑا ڈھیر
پمپری چنچواڑ کے میئر نے بتایا کہ شہر میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کچرے کا بڑا حصہ دفتر کی عمارت پر گر گیا اور کنکریٹ کی چھت منہدم ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت دفتر کے تقریباً 16 ملازمین کھانا کھا رہے تھے۔
Joint Mock Exercise of NDRF-Adani Group: گنگا ایکسپریس وے پر این ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ اور اڈانی گروپ کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ مشق
اس مشترکہ موک ڈرل کا بنیادی مقصد مختلف آفات سے نمٹنے والی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل، فوری ردِعمل، دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال اور ہنگامی حالات میں امدادی و ریسکیو کارروائیوں کی صلاحیت کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے اختتام پر متعلقہ حکام نے پورے آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا اور مستقبل میں آفات سے نمٹنے کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔
Centre Reviews Drought Preparedness: امت شاہ اور شیوراج سنگھ چوہان کی اعلیٰ سطحی میٹنگ، ال نینو کے باعث کم بارش کی صورتحال پر مرکز کا جائزہ، ممکنہ خشک سالی سے نمٹنے کے لیے تیاریاں تیز
امت شاہ نے کہا کہ حکومت ال نینو کے باعث معمول سے کم بارش اور بعض علاقوں میں ممکنہ خشک سالی کی صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے وزارت زراعت اور دیگر متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی کہ وہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں اور کسانوں کو موسمی حالات کے مطابق مناسب فصلوں کی بوائی کے بارے میں بروقت مشورے فراہم کریں۔





