Bharat Express DD Free Dish

Nepal

نیپال میں 24 ستمبر سے ملک کے کئی حصوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے، جس کے باعث کئی دریاؤں میں پانی کی سطح کافی بڑھ گئی ہے۔ اس کے پیش نظر حکام نے دریاؤں کے کنارے رہنے والے لوگوں کو محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

واقعے کے بعد سے مقامی جانوروں کی فلاح و بہبود کی تنظیم آتموتسرگ نیپال اور کئی مقامی افراد مسلسل کتے کی تلاش میں مصروف تھے۔ تنظیم کی ٹیم ملزم خاتون کے گھر پہنچی اور وہاں اپنی آنکھوں سے تصدیق کی کہ کتا مکمل طور پر محفوظ اور زندہ ہے۔این جی او کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح اس بے زبان جانور کی حفاظت یقینی بنانا ہے، تاکہ اسے کسی بھی طرح کا نقصان نہ پہنچے۔

نیپال اس وقت شدید قدرتی آفت سے دوچار ہے۔ ایسے وقت میں بالین شاہ کا بھارت دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف سیاسی بلکہ انسانی نقطۂ نظر سے بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر 26 اگست کو آنے والے شدید اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ پانی اور ملبے کے تیز بہاؤ نے سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ اس تباہی کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر اتنا بھیانک سیلاب آیا کیسے؟

دیوبا 25 فروری کو اپنی اہلیہ اور سابق وزیر ارزو رانا دیوبا کے ہمراہ علاج کے لیے سنگاپور گئے تھے۔ جمعرات کو وہ اکیلے نیپال واپس لوٹے۔ کھٹمنڈو کے تریبھون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا میوزیکل بینڈ اور ثقافتی پروگراموں کے ساتھ شاندار استقبال کیا گیا۔

اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مہنت ٹھاکر نے کہا ’’ہم انہیں کیا کہیں؟ نیپالی آمر یا نیپالی ہٹلر؟ وہ نیپالی ہٹلر بن چکے ہیں۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں، وہی درست سمجھا جاتا ہے اور جو وہ نافذ کرتے ہیں، وہی قانون بن جاتا ہے۔ اس طرزِ حکمرانی سے ملک مزید بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘ 

عالمی بینک کے مطابق نیپال میں سڑک حادثات کے نتیجے میں ہونے والی مجموعی اموات میں 70 فیصد سے زائد حصہ ایسے افراد کا ہوتا ہے جو سڑکوں پر زیادہ غیر محفوظ تصور کیے جاتے ہیں، جن میں پیدل چلنے والے، سائیکل سوار اور موٹر سائیکل چلانے والے شامل ہیں۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور بی جے پی کے متعدد سینئر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی ترقی اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا

بھارت اور نیپال کے درمیان تعاون صرف سیاسی سطح تک محدود نہیں بلکہ تجارت، توانائی، رابطہ کاری، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ’پڑوسی پہلے‘ پالیسی کے تحت نیپال کے ساتھ قریبی تعاون آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت اور مضبوطی فراہم کر سکتا ہے۔

حکام کے مطابق تقریباً 30 فیصد طیارے رن وے پر جب کہ 70 فیصد ٹیکسی وے پر کھڑے رہے، جس کی وجہ سے تمام ملکی اور بین الاقوامی پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں۔رپورٹس کے مطابق طیارے میں مجموعی طور پر 288 افراد سوار تھے،