Bharat Express DD Free Dish

Nepal

بھارت-نیپال تعلقات بھی اس بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی گہرے تعلقات بحران کی اس گھڑی میں آزمائش کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

اولی نے اپنے آپ کو جمہوریت اور امن کا حامی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ: بولنے، چلنے پھرنے اور سوال کرنے کا حق ہی جمہوریت کی روح ہے اور یہی میری زندگی کا مقصد رہا ہے۔

نیپال کے فوجی سربراہ جنرل اشوک راج سگڈیل نے مظاہرین کو آخری وارننگ دی ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سخت انتباہ دیتے ہوئے اپیل کی ہے کہ مظاہرین احتجاج بند کریں اور بات چیت کا راستہ اپنائیں۔

بدھ کی صبح کٹھمنڈو میں سڑکیں تقریباً سنسان نظر آئیں۔لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔شہر بھر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق پرتشدد جھڑپوں میں اب تک کم از کم 22 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ 500 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے پیغامات میں کہا:"ہماچل پردیش اور پنجاب کے دورے سے واپسی کے بعد، کابینہ کی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں نیپال کے حالات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

8 اور 9 ستمبر کو نیپال میں جو کچھ ہوا، وہ تاریخ میں درج ہو چکا ہے۔ مظاہرین نے کئی وزیروں کو دوڑا دوڑا کر مارا، پارلیمنٹ ہاؤس کو آگ لگا دی، اور یہاں تک کہ نیپال کی تین بڑی جیلوں سے قیدی فرار ہو گئے۔ کٹھمنڈو کی نکھو جیل سے مظاہرین نے سابق وزیر داخلہ روی لامیچھانے کو بھی چھڑا لیا۔

نیپال کے سابق پی ایم  جھالا ناتھ کھنل کی اہلیہ راجیہ لکشمی چترکار کی موت  ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے ان کے گھر پر حملہ کیا، جس میں شدید توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی گئی۔

کے پی شرما او لی پہلی بار 2015 میں وزیراعظم بنے تھے۔ وہ اکتوبر 2015 سے اگست 2016 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں اکثریت کھو دینے پر استعفیٰ دینا پڑا۔

منیشا نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: جب جنتا کی آواز، بدعنوانی کے خلاف غصہ، اور انصاف کی مانگ کو گولیوں سے جواب دیا جائے۔ یعنی آج نیپال کے لیے ایک سیاہ دن ہے — جب عوام کی آواز اور بدعنوانی کے خلاف ان کے غصے اور انصاف کے مطالبے کا جواب گولیوں سے دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے مظاہرین پر طاقت کے مبینہ غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔