Bharat Express DD Free Dish

Nepal

ممبئی کے جوہو علاقے میں واقع روہت شیٹی کے بنگلے پر نامعلوم حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ کی تھی۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس اب تک اس کیس میں 12 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے، جنہیں اتر پردیش، راجستھان اور ہریانہ کے مختلف مقامات سے حراست میں لیا گیا ہے۔

کٹھمنڈو پوسٹ کے مطابق، دو گروپوں کے درمیان اس سے پہلے بھی کشیدگی بڑھ چکی تھی اور ٹکراؤ کے بعد جمعہ کی شام کو چھ نکاتی معاہدے پر رضامندی قائم ہوئی۔ حالانکہ، اس کے باوجود ہفتہ صبح تقریباً 9 بجے کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی، جس کے بعد حکام نے دوپہر 1 بجے سے کرفیو نافذ کیا۔

کرفیو کے دائرے میں مشرق میں بس پارک، مغرب میں سریسیا برج، شمال میں پاور ہاؤس چوک اور جنوب میں شنکراچاریہ گیٹ تک کا علاقہ شامل ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

مارچ میں اندازاً 1 لاکھ 10 ہزار سے 1 لاکھ 50 ہزار افراد شریک ہوئے، جب کہ اس کے جواب میں "مارچ اگینسٹ فاشزم" کے عنوان سے نکالے گئے مظاہرے میں تقریباً 5 ہزار افراد نے شرکت کی۔ جوابی مظاہرے میں "پناہ گزین خوش آمدید" اور "فار رائٹ کا خاتمہ کرو" جیسے نعرے لگائے گئے۔

وزیر اعظم مودی نے نیپال کے نوجوانوں، خاص طور پر جنریشن زی (Gen Z) کو بھی سراہا، جنھوں نے حالیہ مظاہروں کے بعد ملک میں جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

نیپال میں یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ نوجوانوں کی جانب سے چلائی جانے والی جنریشن زی تحریک نے حکومت کے خلاف ایک زبردست عوامی ردِعمل کی شکل اختیار کر لی تھی۔ تحریک کی شروعات 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے خلاف ہوئی،

اکھلیش یادو نے کہا کہ کرپشن، کڈنیپ اور ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ میں یوپی سب سے آگے ہے۔ سب سے زیادہ لوگ سی ایم ہاؤس کے باہر زہر کھا کر مر رہے ہیں۔ پنچایتی راج میں 60 فیصد کمیشن چل رہا ہے۔ بی جے پی لیڈران کے پاس کوئی کام نہیں ہے، وہ کھوکھلے ہیں۔

دریں اثنا نیپال کی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور قومی اسمبلی کے چیئرمین نے جمعہ کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

بھارت-نیپال تعلقات بھی اس بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی گہرے تعلقات بحران کی اس گھڑی میں آزمائش کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

اولی نے اپنے آپ کو جمہوریت اور امن کا حامی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ: بولنے، چلنے پھرنے اور سوال کرنے کا حق ہی جمہوریت کی روح ہے اور یہی میری زندگی کا مقصد رہا ہے۔