نیپال میں شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ سیلاب اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثات میں اب تک 903 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 4,247 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں لاشوں کی تلاش، شناخت اور ریسکیو کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کے مطابق چتوان ضلع میں حکام نے 272 لاشیں برآمد کی ہیں، جس کے باعث یہ ضلع ہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بن گیا ہے۔ حکام نے برآمد کی گئی زیادہ تر لاشوں کو دیوگھاٹ میں دفن کیا ہے۔ دیوگھاٹ وہ مقام ہے جہاں کالی گنڈکی اور تریشولی ندیاں آپس میں ملتی ہیں۔ حکام کے مطابق لاشوں کو دفن کرنے کا مقصد ممکنہ صحت کے خطرات سے بچاؤ ہے۔ لاشوں کی تدفین سے قبل حکام نے ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے ہیں، تاکہ بعد میں نامعلوم متوفیوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔
21اسپتالوں میں نامعلوم لاشیں محفوظ
دوسری جانب مختلف اضلاع میں ملنے والی دیگر نامعلوم لاشوں کو 21 اسپتالوں میں رکھا گیا ہے۔ حکام نے متاثرہ خاندانوں سے سرکاری ریکارڈ سے رجوع کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ لاشوں کی شناخت کے عمل میں مدد مل سکے۔ این ڈی آر آر ایم اے کے مطابق لاپتہ افراد میں 592 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں کے کنارے واقع پن بجلی منصوبوں میں کام کرنے والے 933 کارکنوں کی بھی تلاش جاری ہے۔
پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے افراد کی تلاش
ریسکیو ٹیمیں بھارت اور چین کے تکنیکی ماہرین کی مدد سے کئی پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ متعدد افراد ان سرنگوں کے اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔ سیلاب کے دوران نیپال-چین سرحد کے قریب متاثرہ علاقوں میں نیپالی فوج، نیپال پولیس اور آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار بھی لاپتہ ہوئے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
10 ہزار سے زیادہ افراد کو بچایا گیا
قدرتی آفت میں 267 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 156 زخمی افراد علاج مکمل ہونے کے بعد اسپتالوں سے ڈسچارج ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 10,451 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں 252 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ نیپالی فوج نے فضائی کارروائیوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے 3,344 نیپالی شہریوں کو بھی بحفاظت نکالا ہے۔
20 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات
حکومت نے سرچ، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کے لیے مجموعی طور پر 20,819 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ ان میں نیپالی فوج کے 8,722، نیپال پولیس کے 7,894 اور آرمڈ پولیس فورس کے 4,203 اہلکار شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش، متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




