Urdu Conclave 2026

Nepal Flood Disaster

نیپال کے دارچولا ضلع میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈ کے باعث چمیلیا (چولانی) دریا کا راستہ رک گیا ہے، جس سے ملبے کے پیچھے پانی جمع ہو رہا ہے۔ اگر یہ عارضی جھیل ٹوٹ گئی تو کالی دریا کے ذریعے اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

حکام نے برآمد کی گئی زیادہ تر لاشوں کو دیوگھاٹ میں دفن کیا ہے۔ دیوگھاٹ وہ مقام ہے جہاں کالی گنڈکی اور تریشولی ندیاں آپس میں ملتی ہیں۔ حکام کے مطابق لاشوں کو دفن کرنے کا مقصد ممکنہ صحت کے خطرات سے بچاؤ ہے۔ لاشوں کی تدفین سے قبل حکام نے ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے ہیں، تاکہ بعد میں نامعلوم متوفیوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔

نیپال ٹورزم بورڈ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، لاپتہ افراد میں ہندوستانی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جمعہ کے روز ہندوستان سے امدادی سامان اور 11 رکنی طبی و سرنگ بچاؤ ٹیم کے ساتھ تیسرا طیارہ نیپال پہنچا۔

ڈاکٹر پرینکا چودھری 13 اگست کو فن لینڈ سے آنے والے تقریباً 70 ڈاکٹروں کے ایک گروپ کے ساتھ نیپال گئی تھیں۔ اس سفر کا پروگرام 26 اگست تک طے کیا گیا تھا اور اسی روز انہیں ہندوستان واپس آنا تھا۔ تاہم نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے شدید سیلاب میں پھنسنے کے بعد سے ان کا اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

نیپال اس وقت شدید قدرتی آفت سے دوچار ہے۔ ایسے وقت میں بالین شاہ کا بھارت دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف سیاسی بلکہ انسانی نقطۂ نظر سے بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

رسوا اور نواکوٹ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ سیلاب نیپال اور چین کے درمیان سرحدی علاقے سے گزرنے والی بھوٹے کوشی ندی کے بالائی حصے میں برفانی تودہ گرنے کے باعث آیا۔