Bharat Express DD Free Dish

rescue operation

حکام نے برآمد کی گئی زیادہ تر لاشوں کو دیوگھاٹ میں دفن کیا ہے۔ دیوگھاٹ وہ مقام ہے جہاں کالی گنڈکی اور تریشولی ندیاں آپس میں ملتی ہیں۔ حکام کے مطابق لاشوں کو دفن کرنے کا مقصد ممکنہ صحت کے خطرات سے بچاؤ ہے۔ لاشوں کی تدفین سے قبل حکام نے ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے ہیں، تاکہ بعد میں نامعلوم متوفیوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔

سینٹرل ریلوے کے مطابق، قریب ہی جاری کام کے دوران استعمال کی جانے والی ایک کرین کرلا اور ٹرومبے کے درمیان موجود اوور ہیڈ الیکٹرک لائن پر گر گئی۔ تاہم اس حادثے سے ریلوے ٹریفک پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا، کیونکہ یہ سنگل ریلوے لائن ہے اور اس کا استعمال صرف مال گاڑیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔

اتر پردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ میں مسلسل بارش کے دوران تقریباً 100 سال پرانا خستہ حال مکان منہدم ہونے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ خاندان کا ایک نوجوان معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔

ہماچل پردیش اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر (قائد حزب اختلاف) جے رام ٹھاکر نے بھی حادثے پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی دردناک اور دل دہلا دینے والا حادثہ ہے اور اس غم کی گھڑی میں ان کی گہری ہمدردیاں مہلوکین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحقیقات کے بعد اگر کمپنی کی جانب سے کسی غلطی یا غفلت کا پتا چلتا ہے تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو 4 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کرے گی۔

 فوج نے کہا ہے کہ بچاؤ مہم جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی وسائل بھی فوری طور پر تعینات کیے جائیں گے۔ فوج نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران ملک کے عوام کے ساتھ کھڑا رہنا اس کی ذمہ داری ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

پمپری چنچواڑ کے میئر نے بتایا کہ شہر میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کچرے کا بڑا حصہ دفتر کی عمارت پر گر گیا اور کنکریٹ کی چھت منہدم ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت دفتر کے تقریباً 16 ملازمین کھانا کھا رہے تھے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کے اہلکار اور دیگر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملبہ ہٹانے کے ساتھ پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

مرکزی وزیر مملکت سریش گوپی نے کہا کہ فی الحال صورت حال ریاستی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور اگر اضافی نفری یا تکنیکی مدد کی ضرورت پڑی تو مرکز ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ ریاستی چیف سکریٹری بشوناتھ سنہا نے کہا کہ نقصانات کا مکمل اندازہ لگانے کے بعد ضرورت پڑنے پر مرکزی امداد حاصل کی جائے گی۔ 

تراتلا میں زیر تعمیر گودام کا شیڈ گرنے کے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے سپروائزر اور دو مزدور سپلائرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 20 زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک۔ تعمیراتی منصوبے میں بے ضابطگیوں کی بھی جانچ شروع کردی گئی ہے۔