Urdu Conclave 2026

Nepal News

نیپال کی سیاست میں حالیہ پیش رفت نے نئی حکومت کے حوالے سے امید اور غیر یقینی دونوں کو بڑھا دیا ہے۔ کے پی اولی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی (RSP) کی کامیابی کے ساتھ بالیندر شاہ کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوئی، لیکن تشکیل کے چند ہی دنوں میں دو وزراء کے استعفوں نے اس کی سیاسی استحکام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق نئی پابندیوں میں ڈالڈا، مشروبات، گوشت، مچھلی، اچار اور ادویات سمیت کئی روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔ انتظامیہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بھارت سے خرید کر ان اشیاء کو نیپال میں فروخت کرنا اب ممنوع ہوگا۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اس تحقیقات کے دائرے میں سات سابق وزرائے اعظم شامل ہوں گے، جن میں کے پی شرما اولی، پشپ کمل دہل ’پرچنڈ‘، شیر بہادر دیوبا، مادھو کمار نیپال، کھل راج ریگمی، جھل ناتھ کھنال اور بابورام بھٹّ رائی کے نام نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ 100 سے زائد سابق وزراء اور کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی اس بڑے احتسابی عمل کی زد میں آئیں گے۔

رپورٹ کے مطابق 9 ستمبر 2025 کو ہونے والی توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے بعد کھڑکا، سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا اور پشپ کمل دہل کے گھروں سے جلے ہوئے کرنسی نوٹوں کے ٹکڑوں کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔ بعد ازاں فارنزک لیب ٹیسٹ میں ان شواہد کی تصدیق بھی ہوئی تھی۔

جمعہ کو دوپہر 12 بج کر 34 منٹ پر صدارتی دفتر میں منعقدہ شاندار تقریب میں بالین شاہ نے عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ یہ تقریب ہندو رسم و رواج کے مطابق انجام دی گئی۔ تقریب کے آغاز میں سات افراد نے شنگھ بجا کر تقریب کا آغاز کیا،

نیپال کے عام انتخابات میں راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جس کی قیادت 35 سالہ بالیندر شاہ کر رہے ہیں۔ یہ جیت نہ صرف نیپال کی پرانی سیاسی قیادت کے خاتمے کی علامت ہے بلکہ نئی نسل کے نیشنلسٹ اور ٹیکنوکریٹک قیادت کے ابھار کا بھی مظہر ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں نئی دہلی اور کٹھمنڈو کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

نیپال کے وسطی ضلع دھادنگ میں پیر کی علی الصبح ایک ہولناک سڑک حادثہ پیش آیا جب مسافروں سے بھری ایک بس تریشولی ندی میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ بس مغربی شہر پوکھرا سے دارالحکومت کٹھمنڈو جا رہی تھی۔

نیپال میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق مجوزہ بل کو بالآخر واپس لے لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی نے سوشل نیٹ ورکس کے استعمال اور ان کے نظم و نسق سے متعلق پیش کیے گئے اس بل کو متفقہ طور پر واپس لینے کی منظوری دے دی۔

نیپال میں ستمبر کے مہینے میں ہوئے ’جین زی‘ ہنگاموں کے دوران سرکاری اداروں، عمارتوں اور جیلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیپال کی مختلف جیلوں میں قید ہزاروں قیدی فرار ہو گئے، جن میں سے اب بھی 4,552 سے زائد قیدی لاپتہ ہیں اور حکومت کو ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

کٹھمنڈو، جھاپا، پوکھرا، بٹول، چتون، نیپال گنج اور بیراٹ نگر سمیت کئی شہروں میں نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ جھاپا میں مظاہرین نے وزیراعظم کے پی شرما اولی کا پتلا نذرِ آتش کیا اور میونسپل دفتر کے گیٹ توڑنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔