Bharat Express DD Free Dish

Nepal News

اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مہنت ٹھاکر نے کہا ’’ہم انہیں کیا کہیں؟ نیپالی آمر یا نیپالی ہٹلر؟ وہ نیپالی ہٹلر بن چکے ہیں۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں، وہی درست سمجھا جاتا ہے اور جو وہ نافذ کرتے ہیں، وہی قانون بن جاتا ہے۔ اس طرزِ حکمرانی سے ملک مزید بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘ 

آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ لیگ 2 میں شاندار کارکردگی کی بدولت نیپال کے کئی کھلاڑیوں کی رینکنگ میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ نیپال نے گزشتہ ہفتے اگلے سال ہونے والے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کی راہ میں امریکہ اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف مسلسل فتوحات حاصل کی تھیں، جس میں اس کے گیند بازوں نے اہم کردار ادا کیا۔

نیپال کی سیاست میں حالیہ پیش رفت نے نئی حکومت کے حوالے سے امید اور غیر یقینی دونوں کو بڑھا دیا ہے۔ کے پی اولی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی (RSP) کی کامیابی کے ساتھ بالیندر شاہ کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوئی، لیکن تشکیل کے چند ہی دنوں میں دو وزراء کے استعفوں نے اس کی سیاسی استحکام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق نئی پابندیوں میں ڈالڈا، مشروبات، گوشت، مچھلی، اچار اور ادویات سمیت کئی روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔ انتظامیہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بھارت سے خرید کر ان اشیاء کو نیپال میں فروخت کرنا اب ممنوع ہوگا۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اس تحقیقات کے دائرے میں سات سابق وزرائے اعظم شامل ہوں گے، جن میں کے پی شرما اولی، پشپ کمل دہل ’پرچنڈ‘، شیر بہادر دیوبا، مادھو کمار نیپال، کھل راج ریگمی، جھل ناتھ کھنال اور بابورام بھٹّ رائی کے نام نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ 100 سے زائد سابق وزراء اور کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی اس بڑے احتسابی عمل کی زد میں آئیں گے۔

رپورٹ کے مطابق 9 ستمبر 2025 کو ہونے والی توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے بعد کھڑکا، سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا اور پشپ کمل دہل کے گھروں سے جلے ہوئے کرنسی نوٹوں کے ٹکڑوں کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔ بعد ازاں فارنزک لیب ٹیسٹ میں ان شواہد کی تصدیق بھی ہوئی تھی۔

جمعہ کو دوپہر 12 بج کر 34 منٹ پر صدارتی دفتر میں منعقدہ شاندار تقریب میں بالین شاہ نے عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ یہ تقریب ہندو رسم و رواج کے مطابق انجام دی گئی۔ تقریب کے آغاز میں سات افراد نے شنگھ بجا کر تقریب کا آغاز کیا،

نیپال کے عام انتخابات میں راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جس کی قیادت 35 سالہ بالیندر شاہ کر رہے ہیں۔ یہ جیت نہ صرف نیپال کی پرانی سیاسی قیادت کے خاتمے کی علامت ہے بلکہ نئی نسل کے نیشنلسٹ اور ٹیکنوکریٹک قیادت کے ابھار کا بھی مظہر ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں نئی دہلی اور کٹھمنڈو کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

نیپال کے وسطی ضلع دھادنگ میں پیر کی علی الصبح ایک ہولناک سڑک حادثہ پیش آیا جب مسافروں سے بھری ایک بس تریشولی ندی میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ بس مغربی شہر پوکھرا سے دارالحکومت کٹھمنڈو جا رہی تھی۔

نیپال میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق مجوزہ بل کو بالآخر واپس لے لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی نے سوشل نیٹ ورکس کے استعمال اور ان کے نظم و نسق سے متعلق پیش کیے گئے اس بل کو متفقہ طور پر واپس لینے کی منظوری دے دی۔